کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 418
س: ایک آدمی پاکستان میں مقیم ہے ، وہ رمضان کے کچھ روزے پاکستان میں رکھتا ہے ، پھر وہ سعودی عرب چلا جاتا ہے جب اس آدمی کے روزے اٹھائیس ہوتے ہیں تو وہاں عید کا چاند نظر آجاتا ہے ۔ کیا اس طرح اس کے رمضان کے روزے پورے ہوگئے یا ایک روزہ اور رکھنا پڑے گا؟ (محمد یونس شاکر، نوشہرہ ورکاں ) ج: انتقال مکان سے روزے اٹھائیس ہونے کی صورت میں دیکھا جائے ، رمضان اس سال انتیس کا ہے تو ایک روزہ اور تیس کا ہے تو دو روزے اور رکھے، کیونکہ ماہِ رمضان کے روزے فرض ہیں اور ماہِ رمضان کبھی انتیس اور کبھی تیس کا ہوتا ہے، اٹھائیس کا نہیں ہوتا۔ [ (( عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللّٰه عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم اَنَّہٗ قَالَ إِنَّا اُمَّۃٌ اُمِّیَّۃٌ لاَ نَکتُبُ وَلاَ نَحْسِبُ الشَّھْرُ ھٰکَذَا وَھٰکَذَا یَعْنِیْ مَرَّۃً تِسْعَۃً وَعِشْرِیْنَ وَمَرَّۃً ثَلاَثِیْنَ)) ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم ایک امی قوم ہیں ، نہ لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا۔ مہینہ یوں ہے اور یوں ہے آپ کی مراد ایک مرتبہ انتیس (دنوں سے) تھی اور ایک مرتبہ تیس سے۔ (آپؐ نے دسوں انگلیوں سے تین باربتلایا۔) ] [1] ۲۴ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۱ھ س: یوم عرفہ کا روزہ پاکستان میں کب رکھا جائے گا، جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کی قمری تاریخ میں عام طور پر ایک روز کا فرق ہوتا ہے۔ کیونکہ یومِ حج یوم عرفہ ۹ ذوالحج کو ہوتا ہے۔ اور اس دن کے روزے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اس کی بڑی فضیلت ہے۔ پاکستان میں اس دن ۸ ذوالحج ہوتا ہے۔ اب کیا کرنا چاہیے۔ قرآن و سنت سے جواب دیں ؟ (محمد بشیر الطیب ، کویت) ج: یہ فرق لیلۃ القدر، رمضان اور عید کے مواقع پر بھی موجود ہے ، اس کے باوجود اہل پاکستان پاکستان کی تاریخ کا اعتبار کرتے ہیں ۔ ۱۵ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۲ھ س: نو ۹ ذوالحجہ کے روزے کے فضائل تو حدیث میں ثابت ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ یومِ عرفہ (نو ۹ ذوالحجہ) کے روزہ کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایک گزشتہ اور ایک آئندہ سال کے گناہ معاف فرمائیں گے اور یومِ عاشوراء کے روزہ کے بدلہ میں گزشتہ ایک سال کے گناہ معاف فرمائیں گے۔‘‘ [2] ایک عالم دین جو کہ بخاری پڑھاتے ہیں ان کا موقف ہے کہ عرب کا ۹ ذوالحجہ کا روزہ ہمارے ہاں ۸ آٹھ [1] صحیح بخاری کتاب الصوم ؍ باب قول النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم لا نکتب ولا نحسب [2] مختصر صحیح مسلم ؍ للألبانی ؍ رقم الحدیث: ۶۲۰