کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 413
س: 1۔ کیا زکوٰۃ ، صدقات، قربانی کی کھالیں اور عشر وغیرہ اکٹھا کرکے فنڈ مدرسہ اور سکول وغیرہ کی عمارت میں توسیع یا ڈبل بلڈنگ بنانے میں صرف کیاجاسکتا ہے؟ 2۔اسی فنڈ سے مستحق بچوں کو یونیفارم اور کاپیاں ، کتابیں لے کر دی جاسکتی ہیں ؟ 3۔کیا اساتذہ کی تنخواہ اسی فنڈ سے پوری کی جاسکتی ہے، نیز یہ کہ بل کی ادائیگی اور فرنیچر وغیرہ خریدا جاسکتا ہے؟ 4۔ کیا لائبریری قائم کی جاسکتی ہے؟ قرآن و حدیث اور اسلامی فقہ و ادلّہ شرعیہ کی روشنی میں جواب دے کر ممنون فرمائیں ۔ (قاری حفیظ الرحمن اطہر، مسجد محمدی اہلحدیث گکھڑکے، گوجرانوالہ) ج: 1۔ عشر و زکوٰۃ صدقات میں شامل ہیں ۔ قربانی کی کھالیں جو دوسروں کو دی جاتی ہیں ، وہ بھی عام طور پر صدقات میں شامل ہوتی ہیں اور صدقات کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ ا للّٰه وَابْنِ السَّبِیْلِ فرِیْضَۃً مِّنَ ا للّٰه وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ﴾[التوبۃ:۶۰] [’’ صدقے صرف فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لیے اور ان کے لیے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے فرض ہے، اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔‘‘ ] صدقات صرف اور صرف ان آٹھ قسم کے لوگوں پر صرف کیے جاسکتے ہیں ، ان کے علاوہ دوسروں پر صدقات کو صرف نہیں کیا جاسکتا۔ مدرسہ اور سکول وغیرہ کی تعمیر یا توسیع اگر ان آٹھ قسم کے لوگوں کے لیے ہو تو اس میں صدقات صرف ہوسکتے ہیں ورنہ نہیں ۔ ان آٹھ کے علاوہ کوئی صدقات سے تعمیر شدہ یا چلائے جانے والے مدرسہ اور سکول وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ حساب کرکے خرچہ جمع کروائے۔ 2۔یونیفارم تو ضروریات میں شامل نہیں ، باقی ضروری اخراجات مذکورہ بالا آٹھ مصارف میں آنے والے بچوں پر صدقات سے کیے جاسکتے ہیں ۔ 3۔مذکورہ بالا آٹھ مصارف میں آنے والے بچوں کے اساتذہ کی تنخواہ، ان بچوں پر صرف شدہ بجلی، گیس اور پانی وغیرہ کا بل اور ان بچوں کے دیگر اخراجات ضروریہ صدقات سے ادا کیے جاسکتے ہیں ، بشرطیکہ یہ بچے مذکورہ بالا آٹھ مصارف میں شامل ہوں ، ورنہ صدقات ان پر صرف نہیں کیے جاسکتے۔