کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 412
ج: قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ ا للّٰه وَابْنِ السَّبِیْلِ فرِیْضَۃً مِّنَ ا للّٰه وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ﴾[ ’’ صدقے صرف فقیروں کے لیے ہیں اور مسکینوں کے لیے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لیے اور ان کے لیے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لیے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لیے فرض ہے، اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔‘‘ ] صدقہ و زکوٰۃ کے مصرف ہیں فقط آٹھ۔ سورۂ توبہ کی آیت نمبر ہے ساٹھ۔ تو ان مذکورہ بالا آٹھ مصارف کے علاوہ کہیں بھی صدقہ اور زکوٰۃ کا مال صرف نہیں کیا جاسکتا۔ اسراف منع ہے کفایت شعاری سے کام لیتے اور فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہوئے ضرورت کے مطابق مذکورہ بالا آٹھ قسم کے لوگوں کی خاطر عمارت بنائی جاسکتی ہے۔ نیز ان کی خاطر ضرورت کے مطابق سامان خریدا جاسکتا ہے۔ مدیر اور مدیرہ کے وظیفہ کی تعیین کہیں نہیں آئی اور نہ ہی آٹھویں حصے کی تعیین کہیں وارد ہوئی ہے۔ مدارس میں استاد اور استانیوں کے وظائف مقرر کرتے ہوئے جس اقتصاد و کفایت کا اظہار کیا جاتا ہے مدیر اور مدیرہ کو اپنے لیے بھی اسی اصول کو اپنانا ہوگا۔ آخر صدقہ و زکوٰۃ کا مال ہے اس مقام پر ’’ مالِ مفت دلِ بے رحم ‘‘ والی کیفیت نہیں ہونی چاہیے۔ ۱۲ ؍ ۵ ؍ ۱۴۲۱ھ س: کیا فطرانہ کی رقم مدرسہ میں دی جاسکتی ہے؟ (ملک محمد یعقوب) ج: فطرانہ صدقہ ہے، بعض أحادیث میں مساکین کا تذکرہ ہے۔ [ ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مقرر فرمایا تاکہ روزے لغو اور فحش کلام سے پاک ہوجائیں اور مساکین کو کھلایا جائے۔ جو شخص اسے نماز سے قبل ادا کرے تو وہ مقبول زکوٰۃ ہے اور جو نماز کے بعد ادا کرے تو وہ صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ ‘‘ ] [1] قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْعَامِلِیْنَ عَلَیْھَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِیْنَ وَفِیْ سَبِیْلِ ا للّٰه وَابْنِ السَّبِیْلِ فَرِیْضَۃً مِّنَ ا للّٰه وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ o﴾ [التوبہ : ۶۰] [ ’’ صدقات تو دراصل فقیروں ، مسکینوں اور ان کارندوں کے لیے ہیں ، جو ان (کی وصولی) پر مقرر ہیں ، نیز تالیف قلب اور غلام آزاد کرانے، قرض داروں کے قرض اتارنے، اللہ کی راہ میں اور مسافروں پر خرچ کرنے کے لیے ہیں ۔ یہ اللہ کی طرف سے فرض ہے اور اللہ سب جاننے والا ، حکمت والا ہے۔ ‘‘] آٹھ مصارف ہیں ان کے علاوہ پر کوئی بھی صدقہ ہو، صرف نہیں کیا جاسکتا۔ ۷ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۱ھ [1] سنن ابی داؤد ؍ کتاب الزکوٰۃ ؍ باب زکوٰۃ الفطر