کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 411
لیے یا دو کے لیے یا تین کے لیے یا سب کے لیے دینی مدرسہ کی خاطر جگہ خریدی جاسکتی ہے، نیز اس جگہ پر صدقات و زکوٰۃ کے مال سے عمارت تعمیر کی جاسکتی ہے۔ ہاں ایسے دینی مدارس میں جو طلبہ ان آٹھ مصارف سے کسی ایک مصرف میں بھی شامل نہیں وہ اپنا خرچہ جمع کروائیں ۔ واللہ اعلم۔ ۲۰ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۱ھ س: میرے دو چھوٹے بھائی معہد العالی مریدکے میں زیر تعلیم ہیں اور قرآن و حدیث کا علم حاصل کررہے ہیں ۔ آپ جانتے ہیں کہ مدارس میں بچوں کی تعلیم پر جو پیسہ خرچ ہوتا ہے وہ زکوٰۃ و صدقات کا مال ہوتا ہے۔ میرے ذہن میں شروع سے یہ خلش موجود ہے کہ ہر خاص و عام کا وہاں اپنے بچوں کو پڑھانا جائز نہیں ، بلکہ انہیں اپنے وسائل سے ان کی تعلیم کا بندوبست کرنا چاہیے۔ وہاں صرف نادار اور غریب لوگوں کے بچوں کا حق ہے۔ ہماری ماہانہ اوسطاً آمدن کم و بیش 5000/ روپے ہے اور ہماری فیملی بمعہ دو زیر تعلیم بچوں کے 9 افراد پر مشتمل ہے، جس میں ایک چھوٹا بچہ شامل ہے۔ اور باقی سب مکمل افراد ہیں ۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی ڈال کر اپنا مفید مشورہ دیں کہ اس بارے میں کیا خیال ہے؟ ج: صدقہ و زکوٰۃ کے مصرف ہیں آٹھ۔ سورۂ توبہ کی آیت نمبر ہے ساٹھ۔ اگر آپ ان مصارف ثمانیہ سے کسی مصرف کا مصداق ہیں تو آپ کے لیے صدقہ و زکوٰۃ حلال اور طیب ورنہ آپ صدقہ و زکوٰۃ کا مصرف نہیں ۔ اس لیے صدقہ و زکوٰۃ اس صورت میں آپ کے لیے درست نہیں ۔ ۴ ؍ ۸ ؍ ۱۴۲۱ھ س: استادِ محترم صدقہ فطرانہ آخری عشرہ میں دینا بہتر ہے اگر کوئی مسلمان پہلے عشرہ میں دے دیتا ہے تو کیا اس کا فطرانہ ادا ہو جائے گا یا وہ پھر دے اس میں وہ گناہ گار ہے کہ نہیں ؟ (قاری محمد یعقوب گجر) ج: درست ہے آخری عشرہ میں نمازِ عید سے پہلے پہلے فطرانہ ادا کر دینا افضل ہے البتہ اگر اس سے پہلے ادا کر دے تو فطرانہ ادا ہو جائے گا۔ ہاں نمازِ عید کے بعد ادا کر لے تو فطرانہ نہیں ہو گا۔ ’’صدقہ من الصدقات‘‘ ہو گا۔ ۹؍۸؍۱۴۲۳ھ س: زکوٰۃ فنڈ جو جامعات کی مدیرات کے اختیار میں ہوتا ہے اس کو وہ کہاں اور کس طرح خرچ کرسکتی ہیں کیا اعلیٰ بلڈنگ جو زکوٰۃ فنڈ سے بنائی جاتی ہے، وہ کس حد تک درست ہے۔ اور اعلیٰ چیزیں قیمتی سامان زکوٰۃ فنڈ کی رقم سے خریدنا جائز ہے۔ اور جو مدیرات وظیفہ لیتی ہیں وہ کس قدر لے سکتی ہیں ۔ کیا ان کے لیے کل زکوٰۃ فنڈ سے آٹھواں حصہ لینا جائز ہے۔ آپ زکوٰۃ فنڈ کی شرعی شرائط جو اس کے تصرف کے بارے میں قرآن و حدیث میں موجود ہیں ، بالتفصیل ذکر فرمادیں ؟ جزاک ا للّٰه خیرًا۔