کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 409
ج: دانوں کا نصاب باعتبار کلو ۱۵(من پندرہ من تیس کلو اور باعتبار سیر 16-7/10من سولہ من پینتیس سیر ہے۔ دانے مذکور بالا نصاب (پانچ وسق) سے کم ہوں تو عشر یا نصف عشر فرض نہیں ، اگر دانے مذکور بالا نصاب کو پہنچ جائیں یا زائد ہوجائیں تو عشر یا نصف عشر فرض ہے۔ واللہ اعلم۔ [رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ پانچ وسق سے کم کھجوروں میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹ سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ ‘‘[1] ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب تک غلہ اور کھجور کی مقدار پانچ وسق تک نہ ہوجائے اس پر زکوٰۃ نہیں ۔‘‘ [2] عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جس زمین کو بارش یا چشمے پانی پلائیں یا زمین ترو تازہ ہو، اس کی پیداوار سے دسواں حصہ زکوٰۃ ہے، اور جس زمین کو کنویں کے ذریعے سے پانی دیا جائے، اس میں نصف عشر (یعنی بیسواں حصہ) زکوٰۃ ہے۔ ‘‘[3]] ۵ ؍ ۱۱ ؍ ۱۴۲۰ھ س: ! کیا عشر اپنی زمین میں ہے ، یا ٹھیکے والی زمین پر بھی ہے۔ 2۔کیا عشر کے بغیر مال حلال ہے یا حرام؟ (ابوضماد ، شیخوپورہ) ج: 1۔ اپنی زمین اور ٹھیکے والی زمین دونوں میں عشر یا نصف العشر ہے۔ 2۔جس مال سے عشر یا زکوٰۃ نہ نکالی گئی ہو وہ مال حلال و حرام کا مجموعہ ہے۔ [خشک پھلوں میں عشر واجب ہے، جیسے منقیٰ ، کھجور ، اخروٹ ، بادام ، خوبانی، مونگ پھلی، کشمش وغیرہ۔ جب یہ حد نصاب کو پہنچ جائیں (پندرہ من ، تیس کلو) اور خشک کے علاوہ پھلوں میں عشر واجب نہیں ہے، جیسے تربوز، انار، گنا وغیرہ سال کے بعد ان کے منافع پر تجارتی زکوٰۃ عائد ہوگی۔ یعنی اڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ۔ ایسی سبزیاں اور ترکاریاں جو جلد خراب نہیں ہوتیں ، ان پر عشر واجب ہے، جیسے آلو، لہسن ، ادرک ، پیٹھا وغیرہ جب یہ حد نصاب کو پہنچ جائیں ۔ جو جلد خراب ہونے والی ہیں ان پر عشر نہیں ۔ جیسے کدو، ٹینڈا ، کریلے ، توریاں ، ککڑی ، کھیرا وغیرہ، بلکہ ان کے منافع پر سال گزرنے کے بعد تجارتی زکوٰۃ عائد ہوگی۔ [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الزکاۃ ؍ باب لیس فیما دون خمس ذو صدقۃ [2] صحیح سنن نسائی ، للألبانی الجزء الثانی ، رقم الحدیث:۲۳۳۰ [3] صحیح بخاری ؍ کتاب الزکاۃ ؍ باب العشر فیما یسقی من ماء السماء والماء الجاری