کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 408
س: سونے یا چاندی کے لیے زکوٰۃ کا نصاب ہمارے شیخ کے بقول ایک انگوٹھی پر بھی زکوٰۃ ہوگی۔ اس کی وضاحت فرمائیں اور بتائیں کہ زکوٰۃ کتنی ہوگی؟ (میاں سرفراز اسلم سلفی، اوکاڑہ) ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کا دو سو درہم اور سونے کا بیس دینار نصاب مقرر فرمایا ہے۔ چنانچہ إرواء الغلیل (۳؍۲۹۰) میں لکھا ہے: (( عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَنصَارِیِّ أَنَّ فِیْ کِتَابِ رَسُوْلِ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم ، وَفِیْ کِتَابِ عُمَرَ فِی الصَّدَقَۃِ أَنَّ الذَّھَبَ لاَ یُؤْخَذُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتّٰی یَبْلُغَ عِشْرِیْنَ دِیْنَارًا ، فَإِذَا بَلَغَ عِشْرِیْنَ دِیْنَارًا فَفِیْہِ نِصْفُ دِیْنَارٍ وَالْوَرِقُ لاَ یُؤْخَذُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتّٰی یَبْلُغَ مِائْتَیْ دِرْھِمٍ ، فَإِذَا بَلَغَ مِائْتَیْ دِرْھِمٍ فَفِیْہِ خَمْسَۃُ دَرَاھِمَ۔ ۱ھ)) [’’ محمد بن عبدالرحمن انصاری سے روایت ہے، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب اور عمر رضی اللہ عنہ کی کتاب میں جو صدقہ کے بارے ہے، سونے سے کچھ نہ لیا جائے، جب تک وہ ۲۰ بیس دینار تک نہ پہنچے، پس جب وہ ۲۰ بیس دینار ہو تو اس میں نصف دینار زکوٰۃ ہے۔ اور چاندی سے کچھ نہ لیا جائے، جب تک وہ دو سو (۲۰۰)درہم نہ ہو، پس جب وہ ۲۰۰ دو سو درہم ہوجائے، تو اس میں پانچ ۵ درہم زکوٰۃ ہے۔ ‘‘ ] یاد رہے ایک دینار کا وزن 4-1/2 ماشہ = 4-3/8گرام ہے اور ایک درہم کا وزن 21/80تولہ= 3-1/16گرام ہے۔ تو بیس دینار کا وزن 7-1/2 تولہ = 87-1/2گرام ہے اور دو سو درہم کا وزن 52-1/2 تولہ = 612-1/2گرام ہے۔ واللّٰه أعلم۔ ۲۳ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۲ھ س: آج کے دور میں زکوٰۃ کے لیے نصاب کا حساب سونے کی قیمت سے ہوگا یا چاندی کے اعتبار سے، جبکہ دونوں کی قیمتوں میں کافی تفاوت ہے؟ (محمد ہاشم یزمانی) ج: چاندی کا نصاب الگ ہے، ۲۰۰ درہم (52-1/2) تولہ سونے کا نصاب الگ ہے، ۲۰ دینار (7-1/2) تولہ رہے کرنسی ، نوٹ تو ان میں چاندی والے نصاب کا اعتبار ہوگا۔ [نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ سونے اور چاندی کا وہ مالک جو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن جہنم کی آگ میں اسے چوڑے چوڑے پتروں کی صورت میں ڈھال کر گرم کیا جائے گا۔ ‘‘][1] ۷ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۳ھ س: عشر ۱۹ من دانے ہونے کے بعد ایک من ہے یا دانے کم ہوئے ہیں تو پھر بھی اُن کابیسواں حصہ دینا ہوگا۔ مثلاً بیس کلو دانے ہوئے ہیں تو اس میں سے بھی ۱ کلو دینے ہوں گے۔ وضاحت فرمائیں ؟ (ظفر اقبال) [1] صحیح مسلم ؍ الزکاۃ ؍ باب إثم مانع الزکاۃ