کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 402
حبیب بن سالم اور مجاہد سے سماع نہیں ۔ چنانچہ اس کی وضاحت بھی تہذیب التہذیب وغیرہ میں موجود ہے: (( وکان شعبۃ یقول: لم یسمع أبو بشر من حبیب بن سالم وقال: لم یسمع منہ (یعنی من مجاہد) شیئا)) تو ثابت ہوگیا کہ شعبہ نے ابوبشر کو ضعیف نہیں کہا۔ ہاں ابوبشر کی حبیب بن سالم اور مجاہد سے احادیث کو ضعیف کہا ہے وہ بھی بوجہ انقطاع و عدم سماع نہ کہ ابوبشر کے ضعیف ہونے کی وجہ سے۔ شعبہ نے ابوبشر سے حبیب بن سالم اور مجاہد کے علاوہ رواۃ سے بیان کردہ احادیث لی ہیں اور امام بخاری نے انہیں صحیح بخاری میں بھی درج فرمایا ہے۔ چنانچہ امام بخاری کتاب الجنائز ؍ باب ماقیل فی اولاد المشرکین میں فرماتے ہیں : (( حدثنا حبان: أخبرنا عبداللّٰہ: اخبرنا شعبۃ عن أبی بشر عن سعید بن جبیر عن ابن عباس قال: سئل رسول ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عن أولاد المشرکین؟ فقال: ا للّٰه إذ خلقھم أعلم بما کانوا عاملین۔)) اس کی مثال یوں سمجھ لیں کہ یزید بن رومان کی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے حدیث ضعیف ہے، اسی طرح حسن بصری کی ابوہریرہ اور علی رضی اللہ عنہ سے حدیث ضعیف ہے، بوجہ انقطاع و عدم سماع۔ اب اس سے کوئی یزید بن رومان اور حسن بصری کو ضعیف گرداننا شروع کردے تو یہ اس کی لاعلمی اور بے سمجھی ہے یا پھر ’’ جوچاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘ والا معاملہ ہے۔ آپ لکھتے ہیں : ’’ ابن معین منہال کی شان گراتے تھے۔‘‘ اس کے متعلق اولاً گزارش ہے کہ ابن معین کے لفظ تہذیب التہذیب میں اس طرح ہیں : (( کان ابن معین یضع من شان المنہال بن عمرو)) جس کا ترجمہ بنتا ہے ابن معین منہال کی شان سے کچھ گراتے تھے۔ آپ والا ترجمہ نہیں بنتا۔ ثانیاآپ اس کا مطلب لے رہے ہیں کہ منہال ابن معین کے ہاں ثقہ نہیں ضعیف ہے جبکہ اس عبارت کا یہ مطلب لینا سراسر غلط ہے، کیونکہ ابن معین نے صاف اور واشگاف الفاظ میں فرمادیا ہے کہ ’’ منہال بن عمرو ثقہ ہے۔‘‘ [تہذیب التہذیب، میزان الاعتدال] لہٰذا اس شان سے مراد ان کے ثقہ ہونے کے علاوہ کوئی اور شان مراد ہے۔ لامحالہ جن کو تہذیب التہذیب میں ابن معین کے متعلق غلابی کا قول: (( کان یضع من شان المنہال بن عمرو)) نظر آگیا، انہیں اسی تہذیب التہذیب میں اس سے پہلے ابن معین کا قول کہ منہال بن عمرو ثقہ ہے بھی نظر تو آگیا تھا، لیکن انہوں نے اسے درخوراعتنا نہ سمجھا آخر کیوں ؟ کچھ تو ہے ، جس کی پردہ داری ہے۔ یادرہے ایسے کام علم و دین کی کوئی خدمت نہیں ، بلکہ اپنی عاقبت خراب کرنے والا معاملہ ہے۔ أعاذنا ا للّٰه من ذالک۔