کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 400
کا ترجمہ کمتر کرکے تو وہ آپ لوگوں کی رنگ آمیزی اور مغالطہ دہی ہے، ورنہ سلمہ بن کہیل کے الفاظ ان باتوں پر دلالت نہیں کرتے۔ آئیے ان کے الفاظ پڑھیں ۔ تہذیب التہذیب میں ان کے الفاظ یہ ہیں : (( ابو البختری احب إلی منہ)) اور میزان الاعتدال میں ان کے الفاظ یہ ہیں : ((ابو البختری أعجب إلی منہ)) ترجمہ یہ ہے ابو البختری میرے ہاں اس سے زیادہ محبوب پسندیدہ ہے۔مقصد واضح ہے کہ سلمہ بن کہیل ابو البختری اور زاذان دونوں کو محبوب و پسندیدہ سمجھتے ہیں ۔ البتہ ابو البختری کو زاذان سے زیادہ محبوب و پسندیدہ گردانتے ہیں ۔ آپ سوچیے اس عبارت سے بھلا زاذان کی تضعیف نکلتی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں ۔ چنانچہ تقریب میں حافظ صاحب ابو البختری کے متعلق لکھتے ہیں : (( ثقۃ ثبت فیہ تشیع قلیل کثیر الإرسال)) اور زاذان کے متعلق لکھتے ہیں : (( صدوق یرسل وفیہ شیعیۃ)) آپ لوگوں نے ’’ جس کو سلمہ بن کہیل ابوالبختری سے بھی کم تر سمجھتے ہیں ۔‘‘ لکھ کر تأثر دیا ہے کہ ابو البختری کوئی ضعیف و کم راوی ہے اور زاذان ابوالبختری سے بھی ضعیف و کمتر ہے۔ إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ سُبْحَانَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ۔ حقیقت وہی ہے جوواضح کی جاچکی ہے کہ ابو البختری اور زاذان دونوں ہی سلمہ بن کہیل کے ہاں محبوب، پسندیدہ اور ثقہ ہیں ۔ البتہ ابوالبختری ان کے ہاں زاذان سے زیادہ محبوب ، پسندیدہ اور ثقہ ہیں ۔ رہا معاملہ منہال بن عمرو والا تو یاد رہے اس میں بھی آپ کی اور آپ کے ہمنواؤں کی حالت زاذان والے معاملہ سے مختلف نہیں ، کیونکہ منہال بن عمرو بھی ثقہ ہیں ، جن کو ضعیف بنانے پہ آپ لوگ ادھار کھائے بیٹھے ہیں ۔ چنانچہ امام احمد بن حنبل ، یحییٰ بن معین ، نسائی ، ابن حبان ، ابو الحسن بن القطان اور عجلی انہیں ثقہ قرار دیتے ہیں ۔ [تہذیب التہذیب، میزان الاعتدال]حافظ ابن حجر تقریب میں فرماتے ہیں : ’’ صدوق ربما وھم ‘‘ آپ لکھتے ہیں : ’’احمد بن حنبل کہتے تھے کہ ابو بشر مجھ کو منہال سے زیادہ بھلا لگتا ہے اور اس ابو بشر جعفر بن ایاس کو شعبہ نے ضعیف کہا ہے۔‘‘ اس میں آپ باور یہ کرانا چاہتے ہیں کہ منہال بن عمرو امام احمد بن حنبل کے ہاں ابوبشر سے بھی ضعیف ہے، کیونکہ ابوبشر شعبہ کے ہاں ضعیف ہے اور یہ ابوبشر امام احمد کے نزدیک منہال سے زیادہ بھلا ہے تو ابوبشر ضعیف جب امام احمد کے ہاں منہال سے زیادہ بھلا ٹھہرا تو لامحالہ منہال امام احمد کے ہاں ضعیف تر راوی ہوا، پھر اس قول میں آپ نے یہ بھی باور کرایا ہے کہ امام احمد ابو بشر کو بھی ضعیف سمجھتے ہیں ۔ إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ سُبْحَانَکَ ھٰذَا بُھْتَانٌ عَظِیْمٌ۔ کیونکہ امام احمد بن حنبل نہ تو ابوبشرکو ضعیف سمجھتے ہیں اور نہ ہی منہال کو۔