کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 393
زمین کے اوپر ہی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس یہودیہ عورت کو اس کی قبر میں عذاب دیا جارہا ہے، معلوم ہوا کہ یہاں قبر سے مراد برزخی قبر ہے، دنیاوی نہیں ؟ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ والی روایت.....رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنور نما گڑھا دیکھا، جس میں برہنہ مرد اور عورتوں کو عذاب ہورہا تھا۔(بخاری) .....جبکہ دنیا میں زنا کاروں کی قبریں مختلف ممالک اور مختلف مقامات پر ہوتی ہیں ، مگر برزخ میں ان کو ایک ہی تنور میں جمع کرکے آگ کا عذاب دیا جاتا ہے۔ قرآنِ مجید میں ہے : ’’ ہر شخص کو مرنے کے بعد قبر ملتی ہے۔‘‘ [عبس:۲۱] لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کو یہ قبر میسر نہیں آتی، کچھ لوگ ڈوب جاتے ہیں ، بعض کو جلاکر راکھ بنادیا جاتا ہے ، تو انہیں قبر کہاں ملی۔ اس سے معلوم ہوا کہ عذاب اس قبر (یعنی زمینی گڑھے) میں نہیں بلکہ برزخی قبر میں ہوتا ہے؟ اس مسئلہ کی وضاحت قرآن و حدیث کی روشنی میں عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں فرمادیجئے؟ (محمد یونس شاکر ، نوشہر ہ ورکاں ) ج: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ کَلآَّ إِنَّھَا کَلِمَۃٌ ھُوَ قَآئِلُھَا وَمِنْ وَّرَآئِ ھِمْ بَرْزَخٌ إِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ﴾[المؤمنون:۱۰۰][’’ ہرگز ایسا نہیں ہوتا یہ تو صرف ایک قول ہے، جس کا یہ قائل ہے ان کے پس پشت تو ایک حجاب ہے ان کے دوبارہ جی اٹھنے کے دن تک۔‘‘ ] نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ثُمَّ أَمَاتَہٗ فَأَقْبَرَہٗ[عبس:۲۱][’’ پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا۔‘‘ ] تو انسان کی دنیاوی موت کے بعد وہ جہاں بھی جائے جلاکر راکھ کردیا جائے ، اسے درندے ہڑپ کرجائیں ، اسے مچھلیاں کھاجائیں یا اس کے ذرات خاک میں مل جائیں ، یہ اس کے لیے قبر بھی ہے اور برزخ بھی۔ جیسا کہ مندرجہ بالا آیات کریمہ سے ثابت ہورہا ہے، پھر ان آیات سے یہ بھی ثابت ہورہا ہے کہ برزخ و قبر میں انسان کا بدن جسم اور روح دونوں جاتے ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے﴿وَمِنْ وَّرَآئِھِمْ﴾فرمایا۔ ﴿وَمِنَ وَّرَآئِ أَرْوَاحِھِمْ﴾ نہیں فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ﴿فَأَقْبَرَہٗ﴾ فرمایا۔ ﴿فَأَقْبَرَ رُوْحَہٗ﴾ نہیں فرمایا۔ روح کے قبر و برزخ میں ثواب وعذاب میں تو کسی کو کوئی شبہ نہیں ، شبہ تو روح کے ساتھ ساتھ جسم کے ثواب و عذاب میں ہے۔ تو اس سلسلہ میں عرض کروں گا، آپ خود لکھتے ہیں (( عَجْبُ الذَّنَبِ)) [ ریڑھ کی ہڈی۔ ] ہڈی باقی رہتی ہے۔ پھر آپ ہی لکھتے ہیں کتنوں کو جلا کر راکھ کردیا جاتا ہے، نیز آپ ہی لکھتے ہیں ذرات مٹی میں مل گئے۔ تو غور فرمائیں یہ تینوں چیزیں عجب الذنب ، راکھ اور مٹی کے ذرات جسم ہی تو ہیں ، پھر واقعہ مشہورو معروف ہے کہ ایک آدمی نے بیٹوں کو وصیت کی مجھے مرنے کے بعد جلا دینا، کچھ راکھ سمندر میں بہادینا اور کچھ ہوا میں اڑا دینا، بیٹوں نے اس کے مرنے کے بعد ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے سمندر و ہوا کو حکم دیا راکھ اکٹھی کرکے انسان بناکر سامنے