کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 390
درخت پر چڑھے اس طرح وہ مجھے ایک ایسے گھر کے اندر لے گئے کہ اس سے زیادہ حسین و خوبصورت اور بابرکت گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس گھر میں بوڑھے، جوان، عورتیں اور بچے تھے۔ میرے ساتھی مجھے اس گھر سے نکال کر ، پھر ایک اور درخت پر چڑھا کر مجھے ایک اور دوسرے گھر میں لے گئے، جو نہایت خوبصورت اور بہتر تھا، اس میں بھی بہت سے بوڑھے اور جوان تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا:’’ تم لوگوں نے مجھے رات بھر سیر کرائی۔ کیا جو کچھ میں نے دیکھا اس کی تفصیل بھی کچھ بتلاؤ گے؟ انہوں نے کہا: ’’ ہاں ! وہ جو تم نے دیکھا تھا، اس آدمی کا جبڑا لوہے کے آنکس سے پھاڑا جارہا تھا، تو وہ جھوٹا آدمی تھا، جو جھوٹی باتیں بیان کیا کرتا تھا۔ اس سے وہ جھوٹی باتیں دوسرے لوگ سنتے ، اس طرح ایک جھوٹی بات دور دور تک پھیل جایا کرتی تھی، اسے قیامت تک یہی عذاب ہوتا رہے گا۔ جس شخص کو تم نے دیکھا کہ اس کا سر کچلا جارہا تھا ، تو وہ ایک ایسا انسان تھا، جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا، لیکن وہ رات کو پڑا سوتا رہتا اور دن میں اس پر عمل نہیں کرتا تھا، اسے بھی یہ عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا اورجنہیں تم نے تنور میں دیکھا تو وہ زناکار تھے۔ اور جس کو تم نے نہر میں دیکھا وہ سود خور تھا۔ اور وہ بزرگ جو درخت کی جڑ میں بیٹھے ہوئے تھے، وہ ابراہیم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور ان کے ارد گرد والے بچے، لوگوں کی نابالغ اولاد تھی۔(صحیح بخاری ، کتاب التعبیر میں ان لفظوں کا اضافہ ہے کہ کیا مشرکوں کی اولاد کے لیے بھی یہی حکم ہے ؟ فرمایا : ہاں ! اولاد مشرکین کے لیے بھی۔) اور جو شخص آگ جلا رہا تھا، وہ دوزخ کا داروغہ تھا اور وہ گھر جس میں تم پہلے داخل ہوئے، جنت میں عام مومنوں کا گھر تھا اور یہ گھر جس میں تم اب کھڑے ہو یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبریل ہوں اور یہ میرے ساتھ میکائیل ہیں ۔ اب اپنا سر اٹھاؤ۔ میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر بادل کی طرح کوئی چیز ہے۔ میرے ساتھیوں نے کہا یہ تمہارا مکان ہے۔ میں نے کہا: پھر مجھے اپنے مکان میں جانے دو۔ انہوں نے کہا ابھی تمہاری عمر باقی ہے، جو تم نے پوری نہیں کی، اگر آپ وہ پوری کرلیتے ، تو اپنے مکان میں آجاتے۔‘‘ [1] سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ والی روایت کے یہ آخری فقرے ہیں کہ ابھی تمہاری عمر باقی ہے، جو تم نے پوری نہیں کی ، اگر آپ وہ پوری کرلیں تو اپنے مکان میں آجاتے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے بعد مدینے والی قبر میں نہیں ، بلکہ جنت کے سب سے اچھے گھر میں زندہ ہیں ؟ (محمد یونس شاکر، نوشرہ ورکاں ) ج: سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ والی اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خواب بیان فرمایا ہے، چنانچہ صحیح [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الجنائز ؍ باب ماقیل فی اولاد المشرکین