کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 389
فرماتے۔ ایک دن آپ نے معمول کے مطابق ہم سے دریافت فرمایا : ’’ کیا آج رات کسی نے تم میں کوئی خواب دیکھا ہے؟ ‘‘ ہم نے عرض کی کہ کسی نے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا: ’’ لیکن میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے۔ کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ انہوں نے میرے ہاتھ تھام لیے اور وہ مجھے ارض مقدس کی طرف لے گئے۔ (اور وہاں سے عالم بالا کی مجھ کو سیر کرائی۔) وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص تو بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکس تھا، جسے وہ بیٹھنے والے کے جبڑے میں ڈال کر اس کے سر کے پیچھے تک چیر دیتا تھا، پھر دوسرے جبڑے کے ساتھ بھی اسی طرح کرتا تھا، اس دوران میں اس کا پہلا جبڑا صحیح اور اپنی اصلی حالت پرآجاتا اور پھر پہلے کی طرح وہ اسے دوبارہ چیرتا۔‘‘ میں نے پوچھا کہ : ’’ یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ میرے ساتھ کے دونوں آدمیوں نے کہا کہ آگے چلو، چنانچہ ہم آگے بڑھے ، تو ایک ایسے شخص کے پاس آئے، جو سر کے بل لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص ایک بڑا سا پتھر لیے اس کے سر پر کھڑا تھا۔ اس پتھر سے وہ لیٹے ہوئے شخص کے سر کو کچل دیتا تھا، جب وہ اس کے سر پر پتھر مارتا ، تو سر پر لگ کر وہ پتھر دور چلا جاتا اور وہ اسے جاکر اٹھالاتا، ابھی پتھر لے کر واپس بھی نہیں آتا تھا کہ سر دوبارہ درست ہوجاتا، بالکل ویسا ہی جیسا پہلے تھا۔ واپس آکر وہ پھر اسے مارتا۔میں نے پوچھا کہ: ’’ یہ کون لوگ ہیں ؟ ‘‘ ان دونوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلو۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک تنور جیسے گڑھے کی طرف چلے ، جس کے اوپر کا حصہ تو تنگ تھا، لیکن نیچے سے خوب فراخ۔ نیچے آگ بھڑک رہی تھی۔ جب آگ کے شعلے بھڑک کر اوپر کو اٹھتے تو اس میں جلنے والے لوگ بھی اوپر اٹھ آتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ اب وہ باہر نکل جائیں گے، لیکن جب شعلے دب جاتے تو وہ لوگ بھی نیچے چلے جاتے ، اس تنور میں ننگے مرد اور عورتیں تھیں ۔ میں نے اس موقع پر بھی پوچھا کہ : ’’ یہ کیا ہے؟‘‘ لیکن اس مرتبہ بھی جواب یہی ملا کہ ابھی اور آگے چلو۔ ہم آگے چلے۔ اب ہم خون کی ایک نہر کے اوپر تھے۔ نہر کے اندر ایک شخص کھڑا تھا اور اس کے بیچ میں ایک شخص تھا، جس کے سامنے پتھر رکھا ہوا تھا، نہر کا آدمی جب باہر نکلنا چاہتا تو پتھر والا شخص اس کے منہ پر اتنی زور سے پتھر مارتا کہ وہ اپنی پہلی جگہ پر چلا جاتا اور اسی طرح جب بھی وہ نکلنے کی کوشش کرتا ، وہ شخص اس کے منہ پر پتھر اتنی ہی زور سے پھر مارتا کہ وہ اپنی اصلی جگہ پر نہر میں چلا جاتا۔ میں نے پوچھا: ’’ یہ کیا ہورہا ہے؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلو۔ چنانچہ ہم اور آگے بڑھے اور ہرے بھرے باغ میں آئے، جس میں بہت بڑا درخت تھا، اس درخت کی جڑ میں ایک بڑی عمر والے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے۔ درخت سے قریب ہی ایک شخص اپنے آگے آگ سلگا رہا تھا۔ میرے دونوں ساتھی مجھے لے کر اس