کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 383
’’ بلاشبہ آدمی جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتا ہے، وہ سب سے پاکیزہ ہے اور بلاشبہ آدمی کی اولاد اس کی کمائی سے ہے۔‘‘ اور ابوداؤد کتاب الاجارۃ ، ابن ماجہ ، کتاب التجارات میں بسند حسن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ اَوْلاَدَکُمْ مِنْ أَطْیَبِ کَسَبِکُمْ فَکُلُوْا مِنْ کَسَبِ اَوْلاَدِکُمْ)) ’’ بے شک تمہاری اولاد تمہاری سب سے پاکیزہ کمائی میں سے ہے، سو تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔‘‘ معلوم ہوا کہ اولاد آدمی کی اپنی کمائی ہے، لہٰذا اولاد جو نیک عمل کرے گی، والدین کو اس میں سے اجر ملے گا۔ 3۔ میت کے ولی کا اس کی جانب سے نذر کے روزوں کی قضا کرنا: اس کے دلائل درج ذیل ہے: 1۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہٗ))[1] ’’ جو آدمی مرجائے اور اس کے ذمے روزے ہوں ، تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزہ رکھے۔‘‘ 2۔عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: (( جَآئَ تِ امْرَأَۃٌ اِلٰی رَسُولِ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم فَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ ا للّٰه إِنَّ اُمِّیْ مَاتَتْ وَعَلَیْھَا صَوْمُ نَذْرٍ أَفَاَصُوْمُ عَنْھَا؟ قَالَ: أَرَاَیْتِ لَوْ کَانَ عَلٰی اُمِّکِ دَیْنٌ فَقَضَیْتِہٖ أَکَانَ یُؤَدّٰی ذٰلِکَ عَنْھَا؟ قَالَتْ: نَعَم۔ قَالَ: فَصُوْمِیْ عَنْ أُمِّکِ)) [2] ’’ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری ماں فوت ہوگئی ہے،اور اس کے ذمے نذر کے روزے ہیں ۔ کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں ۔ آپؐ نے فرمایا: ’’مجھے بتاؤ اگر تیری ماں پر قرض ہوتا، تو تو اسے ادا کرتی۔ کیا وہ قرض اس کی طرف سے ادا کیا جائے گا؟ اس نے کہا: ہاں ۔ آپؐ نے فرمایا: تو اپنی ماں کی جانب سے روزے رکھ۔‘‘ [1] بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب من مات وعلیہ صوم ، مسلم ؍ کتاب الصیام ؍ باب قضاء الصیام عن المیت ، ابو داؤد ؍ کتاب الصیام ؍ باب فیمن مات وعلیہ صیام [2] مسلم ؍ کتاب الصیام ؍ باب قضاء الصیام عن المیت ، بخاری ؍ کتاب الصوم ؍ باب من مات وعلیہ صوم