کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 380
’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں ، اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں ۔‘‘ مندرجہ بالا سے معلوم ہوا کہ مسلمان میت کے لیے بخشش کی دعا کی جاسکتی ہے۔ کافر و مشرک کے لیے دعا کی اجازت نہیں ۔ 2 ۔ صدقہ جاریہ: یعنی مسلمان اپنی زندگی میں ایسا کام کرجائے جس کا ثواب و فائدہ اسے مرنے کے بعد بھی برابر ملتا رہے، اور اس کے جاری کردہ کام سے بعد میں لوگ بھی فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں ۔ اس کے بارے میں بہت سی احادیث ہیں ۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰی وَنَکْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَھُمْ وَکُلَّ شَیْئٍ اَحْصَیْنَاہُ فِیْ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ o﴾ [یٰسین:۱۲] ’’ بلاشبہ ہم مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھتے جاتے ہیں ۔ وہ اعمال بھی جن کو لوگ آگے بھیجتے ہیں اور ان کے وہ اعمال بھی جن کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کررکھا ہے۔‘‘ اس آیت کریمہ میں ﴿مَا قَدَّمُوْا﴾سے مراد وہ اعمال ہیں جو انسان خود اپنی زندگی میں کرتا ہے اور ﴿آثَارَھُمْ﴾سے مراد وہ اعمال ہیں جن کے عملی نمونے وہ دنیا میں چھوڑ جاتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد لوگ اس کی اقتداء میں بجا لاتے ہیں ۔ ایسے صدقات و اعمال کا تذکرہ کتب حدیث میں موجود ہے، جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلَُہٗ اِلاَّ مِنْ ثَلاَثَۃٍ اِلاَّ مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ اَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُوْ لَہٗ))[1] ’’ جب آدمی مرجاتا ہے تو اس کا عمل اس سے منقطع ہوجاتا ہے، مگر تین چیزیں ہیں (جن کا فائدہ اسے مرنے کے بعد ہوتا رہتا ہے۔)(۱)صدقہ جاریہ۔ (۲) علم جس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ (۳) نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی ہے۔‘‘ [1] مسلم ؍ کتاب الوصیۃ ؍ باب مایلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ ، ترمذی ؍ کتاب الاحکام ؍ باب فی الوقف، ابو داؤد کتاب الوصایا ؍ باب ماجاء فی الصدقۃ عن المیت ، نسائی ؍ کتاب الوصایا ؍ باب فضل الصدقۃ علی المیت