کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 379
تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلاًّ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا اِنَّکَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ صلی ا للّٰه علیہ وسلم ﴾ [الحشر:۱] ’’ اور جو لوگ ان (اہل ایمان) کے بعد آئے، وہ کہتے ہیں ، اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ایمان کے ساتھ ہم سے پہلے گزر گئے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کینہ نہ بنا۔ اے ہمارے پروردگار! بلاشبہ تو مشفق مہربان ہے۔‘‘ اسی طرح حدیث میں آتا ہے جب نجاشی فوت ہوا ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اطلاع دی، تو فرمایا: (( اِسْتَغْفِرُوْا لِأَخِیْکُمْ))] [1] ’’ اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو۔‘‘ (( عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا : أَنَّ النَّبِیَّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم کَانَ یَخْرُجُ اِلَی الْبَقِیْعِ فَیَدْعُوْا لَھُمْ فَسَأَلَتْہُ عَائِشَۃُ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ إِنِّیْ اُمِرْتُ اَنْ اَدْعُوَلَھُمْ)) [2] ’’ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم البقیع کی طرف نکلاکرتے اور ان کے لیے دعا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا: مجھے ان کے لیے دعا کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘ اسی طرح مسند أحمد ۶ ؍ ۹۲ ، ۲۲۱ مؤطا کتاب الجنائز باب جامع الجنائز ۱؍۲۰۸ ، نسائی کتاب الجنائز باب الامر بالاستغفار للمؤمنین (۷؍۲۰۳ ؍ ۲۰۳۶) مسلم کتاب الجنائز باب مایقول عند دخول القبور والدعاء لاھلھا (۱۰۳۔ ۹۷۴) عبدالرزاق ۳؍۵۷۰۔ ۵۷۶ وغیرہ میں مفصل طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قبرستان میں جاکر ہاتھ اٹھاکر ان کے لیے دعا کرنا منقول ہے۔ علاوہ ازیں قبرستان میں جاکر زیارت قبور کی احادیث اور نماز جنازہ میں دعائیں وغیرہ اس بات کی بین دلیل ہیں کہ مسلمانوں کی دعائیں مسلمان میت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں ۔ کافر اور مشرک میت کے لیے دعا کی اجازت نہیں ہے ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحَابُ الْجَحِیْمِ o﴾ [التوبۃ:۱۱۳] [1] بخاری ؍ کتاب الجنائز ؍ باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد (۱۳۲۷) نسائی (۲۰۴۱) [2] مسند احمد:۶؍۲۵۲