کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 374
کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھیجا، تاکہ دیکھے کہ آپ کہاں گئے ہیں ؟ بریرہ نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع الغرقد کی طرف گئے، پھر بقیع کے قریب کھڑے ہوکر ہاتھ اٹھائے، پھر پلٹ آئے، بریرہ نے واپس آکر مجھے ساری بات بتادی، صبح ہوئی تو میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کہاں تشریف لے گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا، تاکہ ان کے حق میں دعا کروں ۔‘‘ ۲۴ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۱ھ س: جنازہ کے بعد جب میت کو دفن کردیا جاتاہے، دفن کرنے کے فوراً بعد ہاتھ اٹھاکر دعاکرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اگر ثابت ہے تو بحوالہ تحریر فرمائیے؟ (محمد یونس شاکر) ج: فتح الباری میں ہے: (( وَفِیْ حَدِیْثِ ابنِ مَسْعُوْدٍ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم فِیْ قَبْرِ عَبْدِ ا للّٰه ذِی النَّجَادَیْنِ۔ الحدیث ، وَفِیہِ: فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِہٖ اِسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ رَافِعًا یَدَیْہِ۔ أَخْرَجَہٗ أَبُوْ عَوَانَۃَ فِیْ صَحِیْحِہٖ۔ ۱ ھ)) [۱۱ ؍ ۱۴۴] [’’ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا عبداللہ ذی النجادین کی قبر میں ۔ الحدیث، اور اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن سے فارغ ہوئے تو قبلہ رخ ہوئے، ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے۔ نکالا اس کو ابوعوانہ نے اپنی صحیح میں ۔ ‘‘ ] ۶ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: حدیث نبوی میں میت کی تدفین کے بعد اس کی تثبیت بالقول الثابت دعاء کے لیے حکم موجود ہے، لیکن مجھے ایسی واضح روایت چاہیے، جس میں اس خاص موقع پر دونوں ہاتھوں کے اٹھانے کے ساتھ دعاء کرنے کا قولی ، عملی یا تقریری طور پر ذکر ہو؟ (رانا محمد جمیل خان(استاذ عربی) ، سرگودھا) ج: فتح الباری میں ہے: (( وَفِیْ حَدِیْثِ ابنِ مَسْعُوْدٍ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم فِیْ قَبْرِ عَبْدِ ا للّٰه ذِی النَّجَادَیْنِ۔ الحدیث ، وَفِیہِ: فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِہٖ اِسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ رَافِعًا یَدَیْہِ۔[’’ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ ذی النجادین کی قبر میں ۔ اور اس میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن کرنے سے فارغ ہوئے قبلہ کی طرف منہ کیا ، ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے۔ ‘‘ ] أَخْرَجَہٗ أَبُوْ عَوَانَۃَ فِیْ صَحِیْحِہٖ۔ ۱ ھ)) [۱۱ ؍ ۱۴۴] ۲۱ ؍ ۱ ؍ ۲۰۰۳ء س: قبر پر جاکر کس طرف منہ کرکے دعا کرنی چاہیے، یا جہاں بھی ہے وہیں کرتا رہے، اپنے والدین اور جو جو بھی فوت شدہ گان ان کے لیے؟ (حامد رشید ، لاہور)