کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 373
بھی اوڑھنے کی چادر سر پر رکھی اور تیار ہوگئی۔ پھر میں آپ کے پیچھے پیچھے چلتی رہی۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تشریف لائے۔ آپ دیر تک ٹھہرے رہے، پھر آپ نے تین مرتبہ ہاتھ اٹھاکر دعاکی ، جب آپ پلٹے تو میں بھی پلٹ پڑی۔ آپ نے قدم تیز کیے تو میں بھی تیز ہوگئی۔ آپ نے دوڑنا شروع کردیا، تو میں بھی دوڑنے لگی، آپ بھی پہنچے میں بھی پہنچ گئی، لیکن ذرا پہلے بس میں لیٹی ہی تھی کہ آپ تشریف لے آئے۔ پوچھا:’’ عائش (حضرت عائشہ کا لاڈ کا نام)سانس کیوں پھول رہا ہے؟‘‘ میں نے کہا: کوئی بات نہیں ۔ فرمایا: ’’بتادو تو ٹھیک ہے ورنہ اللہ علیم و خبیر بتادے گا۔‘‘ میں نے کہا: میرے والدین آپ پر نثار اور پھر ساری بات بتادی۔ آپ نے فرمایا: ’’وہ کالا سایہ میرے آگے آگے تم تھیں ؟‘‘ میں نے کہا: ہاں ۔ پھر آپ نے میرے سینے پر زور دار ہاتھ مارا، جس سے مجھے تکلیف ہوئی۔ پھر فرمایا: ’’تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارے ساتھ ناانصافی کریں گے؟ حضرت عائشہ نے کہا: لوگ جتنا بھی چھپاتے رہیں ، اللہ تو جانتا ہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں ۔‘‘ پھر آپ نے حقیقت حال بیان کرتے ہوئے کہا، جب تم نے دیکھا اس وقت جبریل امین آئے تھے، انہوں نے مجھے آہستہ سے بلایا، تاکہ تمہیں اطلاع نہ ہو، میں نے بھی آہستہ سے جواب دیا، تاکہ تمہیں خبر نہ ہو، وہ تمہارے پاس نہیں آسکتے تھے، کیونکہ تم نے کپڑے اتار لیے تھے۔ میرا خیال تھا کہ تم سوچکی ہو، تمہیں جگانا پسند نہ کیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ تم ڈروگی۔ جبریل امین نے آکر کہا کہ تمہارے رب کا حکم ہے کہ اہل بقیع کے پاس جاکر ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایسے موقع پر ان کے لیے کیاکہا کروں ؟ آپ نے فرمایا: ’’کہو مؤمن اور مسلمان گھر والوں پر اللہ کی سلامتی ہو ، اللہ اگلوں اور پچھلوں پر رحمت فرمائے۔ ہم بھی ان شاء اللہ تمہارے پاس ، پہنچنے والے ہیں ۔ ‘‘[1] (( عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰه عنہا قَالَتْ خَرَجَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ فَاَرْسَلْتُ بَرِیْرَۃَ فِیْ اَثَرِہ لِتَنْظُرَ اَیْنَ ذَھَبَ قَالَتْ فَسَلَکَ نَحْوَ بَقِیْعِ الْغَرْقَدِ فَوَقَفَ فِیْ اَدْنَی الْبَقِیْعِ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَرَجَعَتْ الَیَّ بَرِیْرَۃُ فَاَخْبَرَتْنِیْ فَلَمَّا اَصْبَحْتُ سَاَلْتُہٗ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم اَیْنَ خَرَجْتَ اللَّیْلَۃَ؟ قَالَ: بُعِثْتُ اِلٰی اَھْلِ الْبَقِیْعِ لِاُصَلِّیَ عَلَیْھِمْ۔)) [2] ترجمہ:.....’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے میں نے بریرہ [1] صحیح مسلم ؍ کتاب الجنائز ؍ باب ما یقال عند دخول المقابر ، سنن نسائی ؍ کتاب الجنائز ؍ باب الامر بالاستغفار للمومنین [2] مؤطا امام مالک ؍ کتاب الجنائز ؍ باب جامع الجنائز ، سنن النسائی ؍ کتاب الجنائز ؍ باب الامر بالاستغفار للمؤمنین