کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 371
تھی تو ثابت ہوا دوبارہ نماز جنازہ پڑھنا درست ہے۔ رہا دوسرے شہر یا دوسرے ملک والا معاملہ تو وہ نماز جنازہ غائبانہ کہلاتی ہے وہ بھی درست ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی کی نماز جنازہ مدینہ منورہ میں ادا فرمائی تھی۔ [1]نماز جنازہ کی دعاء میں سب پڑھتے ہیں : (( وَشَاھِدِنَا وَغَائِبِنَا)) [2] جس سے پتہ چلتا ہے کہ غائب میں فوت شدہ بھی شامل ہے اور نماز جنازہ غائبانہ میں غائب میت کے لیے دعاء کی جاتی ہے۔ تو خلاصۂ کلام یہ ہوا جس کی حاضرانہ نماز جنازہ درست ہے، اس کی غائبانہ نماز جنازہ بھی درست ہے۔ واللہ اعلم۔ ۲۳ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۱ھ تدفین س: میت کو قبر میں دفن کرنے کے بعد قبر پر کھڑے ہوکر ہاتھ اٹھاکر جو اجتماعی دعا کی جاتی ہے کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاطریقہ ہے ، اگر ہے تو حدیث بحوالہ تحریر فرمادیجئے؟ (محمد یونس شاکر) ج: مشکوٰۃ میں بحوالہ ابو داؤد لکھا ہے: (( کَانَ النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم اِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْن الْمَیِّتِ وَقَفَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ: اِسْتَغْفِرُوْا لِأَخِیْکُمْ ثُمَّ سَلُوْالَہٗ بِالتَّثْبِیْتِ فَإِنَّہٗ الْآنَ یُسْأَلُ)) [ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو دفن کرکے فارغ ہوتے تو کھڑے ہوتے اور فرماتے اپنے بھائی کے لیے استغفار کرو، پھر اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو، پس بے شک اب وہ سوال کیا جائے گا؟ ‘‘[3] [۱ ؍ ۴۸ ؍ ح:۱۳۳] نیز فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے: (( وَفِیْ حَدِیْثِ ابنِ مَسْعُوْدٍ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم فِیْ قَبْرِ عَبْدِ ا للّٰه ذِی النَّجَادَیْنِ۔ الحدیث ، وَفِیہِ: فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِہٖ اِسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ رَافِعًا یَدَیْہِ۔ أَخْرَجَہُ أَبُوْ عَوَانَۃَ فِیْ صَحِیْحِہٖ ۱ ھ)) [’’ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا عبداللہ ذی النجادین کی قبر میں ۔‘‘ [الحدیث] اور اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن سے فارغ ہوئے تو قبلہ رخ ہوئے، ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے۔ نکالا اس کو ابوعوانہ نے اپنی صحیح میں ۔ ‘‘] [۱۱ ؍ ۱۴۴] (( عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسِ بْنِ مَخْزَمَۃَ بْنِ الْمُطَّلِبِ اَنَّہٗ قَالَ یَوْمًا: اَلاَ اُحَدِّثُکُمْ عَنِّیْ وَعَنْ اُمِّیْ؟ [1] بخاری ؍ الجنائز ، حدیث:۱۳۳۳ ، مسلم ؍ الجنائز ، حدیث:۹۵۱ [2] ابوداؤد ؍ الجنائز ؍ باب الدعاء للمیت ، حدیث:۳۲۰۱ ، اسے امام ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [3] مشکوٰۃ ؍ کتاب الایمان ؍ باب اثبات عذاب القبر الفصل الثانی