کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 370
کی قسم! اس وقت میں اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں ، اس کی چوڑائی ایلہ سے الجحفہ تک ہے۔ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں عطا کردی گئی ہیں ۔ اللہ کی قسم! مجھے اپنے بعد تمہارے شرک کا اندیشہ نہیں ، البتہ دنیا کے بارے میں اندیشہ ضرور ہے کہ تم اس کی دوڑ میں لگ جاؤ۔‘‘ (اور اس بات کا بھی اندیشہ ہے کہ تم آپس میں لڑ کر ہلاک ہوجاؤ۔ جیسے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے تھے۔) [1] بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداءِ احد کی نماز جنازہ قبر پر پڑھی ، تو ان سے گزارش ہے کہ حدیث پر غور کریں اور لفظ منبر دوبارہ پڑھیں ۔ کیا منبر قبرستان میں ہوتا ہے؟ مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں مولانا عبیدا للہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’ یہ واقعہ مسجد کا ہے۔‘‘ اسی طرح بعض لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے نماز جنازہ پڑھی تو یہ بات بھی غلط ہے۔ کیونکہ آپ نے وعظ بھی فرمایا۔ اور اگر اکیلے تھے، تو وعظ کس کو فرمایا تھا۔ مزید یہ کہ شہید معرکہ کے غائبانہ نماز جنازہ پر وعظ بھی اسی حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ الغرض شہید معرکہ کا جنازہ ثابت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو مومن ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ جاتا ہے، اس کے ساتھ رہتا ہے، اس کا جنازہ پڑھتا اور اس کو دفن کرکے فارغ ہوجاتا ہے، تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے۔ ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے۔ اور جو (صرف) جنازہ پڑھ کے واپس آجاتا ہے تو اس کے لیے ایک قیراط ہے۔ ‘‘[2] اب جو مومن شہید معرکہ کا غائبانہ نماز جنازہ پڑھے گا، اسے ایک قیراط ثواب ملے گا۔ ] رہی شہید معرکہ کی غائبانہ نماز جنازہ تو وہ بھی درست ہے، فرض نہیں ۔ کیونکہ جو کسی کی حاضرانہ نماز جنازہ کا حکم ہے وہی اس کی غائبانہ نماز جنازہ کا حکم ہے۔ نیز صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد شہدائے اُحد کی نماز جنازہ پڑھی۔ [3]] ۱۱ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۲ھ س: کوئی آدمی کسی دوسرے شہر میں فوت ہوا یا کسی دوسرے ملک میں اس کی نماز جنازہ اداکی گئی۔ اب غائبانہ طور پر کسی دوسرے شہر یا ملک میں اس کی نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے۔ آپ نے بھی شیخ البانی رحمہ اللہ کی نماز جنازہ غائبانہ جامعہ محمدیہ میں اداکی تھی۔؟ (محمد عمر ، فتومنڈ) ج: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خادم مسجد کی قبر پر نماز جنازہ پڑھی۔ [4]جبکہ پہلے بھی اس پر نماز جنازہ پڑھی جاچکی [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الجنائز ؍ باب الصلوٰۃ علی الشہید ، صحیح مسلم ؍ کتاب الفضائل ؍ باب اثبات حوض نبینا صلی ا للّٰه علیہ وسلم وصفاتہ [2] بخاری ؍ الایمان ؍ باب اتباع الجنائز من الایمان ، مسلم ؍ الجنائز ؍ باب فضل الصلاۃ علی الجنازۃ واتباعھا [3] صحیح بخاری ؍ کتاب المغازی ؍ باب غزوۃ أُحد [4] بخاری ؍ الجنائز ؍ باب الصلاۃ علی القبر بعد مایدفن ، حدیث:۱۳۳۷ ، مسلم ؍ الجنائز ؍ باب الصلاۃ علی القبر ، حدیث:۹۵۶