کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 369
س: شہید کا نماز جنازہ ، غائبانہ نماز جنازہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (قاسم بن سرور) ج: اہل علم میں یہ مسئلہ چلا آرہا ہے کہ غائبانہ نماز جنازہ درست ہے یا نہیں ؟ عام اس سے کہ وہ شہید کی ہو یا غیر شہید کی۔ اس مسئلہ میں اس فقیر إلی اللہ الغنی کے ہاں حق یہ ہے کہ جس کی حاضرانہ نماز جنازہ درست ہے، اس کی غائبانہ نماز جنازہ بھی درست ہے۔ نیز اہل علم میں یہ مسئلہ چلا آرہا ہے کہ شہید کی نماز جنازہ کا کیا حکم ہے؟ آیا پڑھی جائے یا نہ پڑھی جائے؟ قطع نظر اس سے کہ وہ حاضرانہ ہے یا غائبانہ۔ اس مسئلہ میں اس عبد فقیر إلی اللہ الصمد کے نزدیک راجح قول یہ ہے کہ شہید فی المعرکہ کی نماز جنازہ فرض نہیں نہ ہی حاضرانہ اور نہ ہی غائبانہ۔ اگر کوئی پڑھ لے تو اجرو ثواب ہے، خواہ حاضرانہ پڑھے، خواہ غائبانہ ۔ رہا سوال ’’ شہید کی نماز جنازہ غائبانہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ‘‘ تو یہ ایک جماعت میں خاص اختلاف کی پیداوار ہے۔ حقیقت وہی ہے جو عرض کرچکا ہوں ۔ ۸ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۵ھ س: کیا شہید کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے یا کہ نہیں ، جوکہ معرکے کے دوران لڑتے ہوئے شہید ہوجائے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں ؟ (حبیب الرحمن ، مرالی والا) ج: شہید معرکہ کی حاضرانہ نمازِ جنازہ درست ہے، فرض نہیں ۔ تفصیل محدث دوران شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ احکام الجنائز ‘‘ میں دیکھ لیں ۔ [ شیخ محمد ناصر الدین ألبانی نے ’’ احکام الجنائز ‘‘ میں یہ عنوان قائم کیا ہے۔ حسب ذیل افراد کی نماز جنازہ ادا کرنا شرعاً ثابت ہے۔ اس عنوان کے تحت بچے اور شہید اور جس مسلمان کو کسی حد کی وجہ سے قتل کردیا جائے وغیرہ کا ذکر کیاہے۔ یہاں صرف ان احادیث کا ذکر ہوگا، جن میں شہید کے جنازہ کا ذکر ہے: 1- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد کے دن حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو چادر سے چھپا دینے کا حکم دیا۔ آپؐ نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی نو تکبیروں سے نماز جنازہ ادا فرمائی۔ پھر دوسرے شہداء باری باری لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بھی نماز ادا فرمائی اور ان کے ساتھ ساتھ حمزہ رضی اللہ عنہ کی بھی نماز ادا فرماتے رہے۔ [معانی الآثار للطحاوی ، ج:۱ ، ص:۲۹۰،سند صحیح ہے۔] 2۔ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداءِ اُحد کی (آٹھ سال کے بعد) نمازِ جنازہ ادا فرمائی۔ (گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں ) پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور حمدو ثناء کے بعد فرمایا: ’’ میں تم سے پہلے جانے والا ہوں ۔ میں تمہارا گواہ ہوں (اب ملاقات حوض کوثر پر ہوگی۔) اللہ