کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 368
س: اگر ایک بندہ نماز جنازہ میں لیٹ شامل ہو، اس کی ایک دو تکبیرات رہ گئی ہیں وہ کیا کرے گا؟ کیا وہ امام کے ساتھ مل کر پہلی تکبیرات لوٹائے گا یا اسی کے ساتھ سلام پھیردے گا؟ (سجاد الرحمن) ج: امام کے ساتھ سلام نہ پھیرے ، اس کی جتنی تکبیرات رہ گئی ہیں وہ پوری کرکے سلام پھیرے۔ جس طرح وہ رکوع و سجود والی نماز میں کرتا ہے۔ ((مَا أَدْرَکْتُمْ فَصَلُّوْا وَمَا فَاتَکُمْ فَأَتِمُّوْا)) [1] [ ’’ جو نماز تمہیں مل جائے پڑھ لو اور جو فوت ہوجائے اسے بعد میں پورا کرو۔‘‘] ۱۳ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: کیا شہید کا غائبانہ نماز جنازہ ثابت ہے؟ (محمد شکیل ، فورٹ عباس) ج: ثابت ہے۔ غیر شہید کے غائبانہ جنازے کی دلیل ، شہید کے غائبانہ جنازہ کی بھی دلیل ہے۔ جیسے بادشاہ کے غائبانہ جنازہ کی دلیل غیر بادشاہ کے غائبانہ جنازہ کی دلیل ہے۔ [صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں یہ واقعہ مروی ہے کہ حبشہ میں نجاشی کی وفات ہوئی اور یہ رجب ۹ ہجری کا واقعہ ہے اور مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہمراہ لے کر اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔ اس سے ثابت ہوا کہ میت کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی کہے کہ وہ بادشاہ تھا، اس لیے صرف بادشاہ کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں ، تو اس کی یہ بات غلط ہے ، کیونکہ یہ جنازہ ہے اس میں بادشاہ ، غیر بادشاہ برابر ہیں ۔ اگر کوئی کہے کہ شہید معرکہ کی غائبانہ نماز جنازہ درست نہیں ۔ کیونکہ نجاشی شہید نہ تھا، تو اسکی بات بھی غلط ہے۔ کیونکہ نجاشی مسلمان تھا اور شہید معرکہ بھی مسلمان ہے، اگر شہید معرکہ کی غائبانہ نماز جنازہ غلط ہے ، تو پھر غیر بادشاہ کی غائبانہ نماز جنازہ بھی غلط ہے۔ ] ۱۲ ؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۱ھ س: کیا شہید کا جنازہ پڑھنے کا ثبوت کتاب و سنت سے ملتا ہے؟ (ماسٹر سیف اللہ خالد) ج: شہید مسلم ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اتباع جنازہ مسلم کا مسلم پر حق ہے تو شہید کا جنازہ ثابت ہے۔ [’’ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں ۔ سلام کا جواب دینا۔ مریض کی عیادت کرنا۔ جنازے کے ساتھ چلنا۔ دعوت قبول کرنا اور چھینک پر (اس کے الحمد للّٰہ کے جواب میں ) یرحمک ا للّٰه کہنا۔ ‘‘[2] ۷ ؍ ۲ ؍ ۱۴۲۳ھ [1] بخاری ؍ کتاب الأذان ؍ باب لا یسعی الی الصلاۃ ولیاتھا بالسکینۃ والوقار ، مسلم ؍ المساجد ؍ باب استحباب اتیان الصلاۃ بوقار وسکینۃ [2] بخاری ؍ کتاب الجنائز ؍ باب الأمر باتباع الجنائز ، مسلم ؍ کتاب السلام ؍ باب من حق المسلم علی المسلم (ردالسلام)