کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 367
اسناد حسن ہے۔ اس کے تمام راوی معروف وثقہ ہیں اور ابن اسحاق نے تحدیث کی تصریح کی ہے۔‘‘ ] اور جس روایت کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ’’ لا یصح ‘‘فرمایا وہ روایت اور ہے۔ چنانچہ حافظ صاحب موصوف لکھتے ہیں : (( وَمَا رُوِیَ أنَّہُ صَلّٰی عَلَیْھِمْ ، وَکَبَّرَ عَلیٰ حَمْزَۃَ سَبْعِیْنَ تَکْبِیْرَۃً لاَ یَصِحُّ)) [اور جو مروی ہے کہ آپ نے ان پر نماز پڑھی اور حمزہ پر ستر ۷۰ تکبیریں کہیں وہ صحیح نہیں ۔ ] ۲۱ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: جنازے کو دیکھ کر کھڑا ہونے کا کیا حکم ہے؟ (قاسم بن سرور) ج: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباری میں لکھتے ہیں : (( وقال ابن حزم: قعودہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم بعد أمرہ بالقیام یدل علی أن الأمر للندب ولا یجوز أن یکون نسخا لأن النسخ لا یکون إلا بنھی ، أو بترک نہی۔ ۱ ھ)) [۳ ؍ ۱۸۱] [ ’’ ابن حزم نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کھڑا ہونے کا حکم دینے کے بعد بیٹھ جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حکم استحباب کے لیے ہے اور اس کا نسخ ہونا جائز نہیں ۔ کیونکہ نسخ نہی سے ہوتا ہے یا ترک نہی سے۔‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جب تم جنازہ دیکھو تو اس کی خاطر کھڑے ہوجاؤ، حتی کہ وہ تمہیں پیچھے چھوڑ جائے یا اسے زمین پر رکھا جائے۔‘‘ [1] علی رضی اللہ عنہ کے سامنے جنازہ کے رکھنے سے پہلے کھڑے رہنے کا ذکر ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تھے، مگر پھر بیٹھ گئے۔‘‘ [2] علی رضی اللہ عنہ کے فرمان کا یہ مطلب ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہوجاتے ، پھر اس کے بعد کھڑے ہونا چھوڑ دیا تھا۔] ۷ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: ایک آدمی نماز جنازہ میں اس وقت شامل ہوتا ہے، جب امام دو تکبیریں کہہ چکا ہے کیا یہ نمازی امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دے یا بعد میں دو تکبیریں کہے؟ (محمد یونس شاکر) ج: نہیں ! اپنی تکبیر پوری کرنے کے بعد سلام پھیرے گا۔ جیسا کہ دوسری نماز میں کرتا ہے، جو رکعات رہ جائیں پوری کرکے سلام پھیرتا ہے۔ امام کے ساتھ سلام نہیں پھیرتا۔ ۳۰ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ [1] بخاری ؍کتاب الجنائز ؍ باب القیام للجنازۃ ، مسلم ؍ کتاب الجنائز ؍ باب استحباب القیام للجنازۃ ، ترمذی ؍ أبواب الجنائز ؍ باب القیام للجنازۃ [2] مسلم ؍ الجنائز ؍ باب استحباب القیام وجوازالقعود ، ترمذی ؍ الجنائز ؍ باب الرخصۃ فی ترک القیام لھا