کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 364
بہتر گھر (دنیا کے) لوگوں سے بہتر لوگ اور اس کی بیوی سے بہتر جوڑا عطا فرما۔ اسے بہشت میں داخل فرما اور فتنہ قبر، عذاب قبر اور عذابِ جہنم سے بچا۔‘‘ (( اَللّٰھُمَّ اِنَّ فُلاَنَ بْنَ فُلاَنٍ فِیْ ذِمَّتِکَ وَحَبْلِ جَوَارِکَ فَقِہِ مِنْ فِتْنَۃِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَاَنْتَ اَھْلُ الْوَفَائِ وَالْحَمْدِ اَللّٰھُمَّ فَاغْفِرْلَہٗ وَارْحَمْہُ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ)) [1] ’’ الٰہی! یہ فلاں بن فلاں تیرے ذمے اور تیری رحمت کے سائے میں ہے اسے فتنہ قبر، عذاب قبر اور آگ کے عذاب سے بچا تو (اپنے وعدے) وفا کرنے والا اور لائق تعریف ہے۔ الٰہی! اسے معاف کردے اور اس پر رحم فرما۔ بلاشبہ تو بخشنے والا اور رحم کرنے والاہے۔‘‘ (( اَللّٰھُمَّ اِنَّہٗ عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ کَانَ یَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ أَنْتَ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ وَاَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِیْ اِحْسَانِہٖ وَاِنْ کَانَ مُسِیْئًا فَتَجَاوَزْ عَنْ سَیِّاٰتِہٖ ، اَللّٰھُمَّ لاَ تَحْرِمْنَا اَجْرَہٗ وَلاَ تَفْتِنَّا بَعْدَہٗ …))[2] ’’ اے اللہ! یہ تیرا غلام اور تیرے غلام کا بیٹا ہے۔ یہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں ۔ اور تو مجھ سے زیادہ اس کو جانتا ہے، اگر وہ نیک تھا تو اس کی نیکی میں اضافہ کردے اور اگر گنہگار ہو تو اس کے گناہوں کو معاف کردے اور اس کے اجر سے ہم کو محروم نہ کرنا اور نہ تو اس کے بعد ہم کو فتنے میں ڈالنا۔‘‘ (محمد صدیق ، ایبٹ آباد) ج: کوئی ایک دعاء پڑھ لے کافی ہے، جنازہ ہوجائے گا۔ کئی دعاؤں کو جمع کرنے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فعلی و عملی حدیث تو مجھے سردست معلوم نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: (( فَأَخْلِصُوْا لَہُ الدُّعَائَ)) [3] [’’پس میت کے لیے خلوص سے دعا کرو۔‘‘] اور دیگر ادلہ سے جواز نکلتا ہے۔ ۱۱ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۴ھ س: جنازہ کی دعا میں بعض جگہ مذکر کی ضمیریں ہیں اور بعض جگہ مؤنث ، اگر میت مذکر ہو تو کون سی ضمیر پڑھیں اور اگر مؤنث ہو تو کون سی ضمیر پڑھیں ؟ (محمد صدیق ، ضلع ایبٹ آباد) ج: تمام ضمیریں مذکر ، تمام ضمیریں مؤنث اور کچھ ضمائر مذکر ، کچھ مؤنث تینوں صورتیں درست ہیں ۔ [ (( فللرجل المتبع للسنۃ أنہ یدعو بھٰذہ الألفاظ الواردۃ فی ھٰذہ الأحادیث سواء کان [1] ابو داؤد ؍ کتاب الجنائز ؍ باب الدعاء للمیت [2] المؤطا ؍ کتاب الجنائز ؍ باب ما یقول المصلی علی الجنازۃ [3] ابو داؤد ؍ کتاب الجنائز ؍ باب الدعاء للمیت ، ابن ماجہ ، ابن حبان