کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 358
س: مشرکوں اور مؤمنوں کی جو اولاد بھی بلوغت کو پہنچنے سے پہلے وفات پاجائے ان کا کیا حکم ہے، کیا وہ جنتی ہیں ؟ (خاور رشید، لاہور) ج: مؤمنوں کے وہ بچے جو قبل از بلوغت و تکلیف فوت ہوگئے ، جنت میں جائیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔ اور کفار کے وہ بچے جو قبل از بلوغت و تکلیف فوت ہوگئے، آخر میں ان کا امتحان ہوگا، جو پاس ہوگئے جنت میں جائیں گے اور جو فیل ہوگئے، جہنم و دوزخ میں جائیں گے۔ ان شاء اللّٰه تبارک وتعالیٰ۔ اس مسئلہ پر تفصیل دیکھنا چاہتے ہیں تو فتح الباری سے کتاب الجنائز کے دو باب نمبر۱: ’’ باب ما قِیْل فی اولاد المسلمین ‘‘ اور نمبر۲: ’’ باب ماقیل فی أولاد المشرکین ‘‘پڑھ لیں ۔ [ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ’’ جس کے تین نابالغ بچے مرجائیں ، تو یہ بچے اس کے لیے دوزخ سے روک بن جائیں گے یا یہ کہا کہ وہ جنت میں داخل ہوگا۔ ‘‘ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’ جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مرجائیں ، تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے جو ان بچوں پر کرے گا ان کو بہشت میں لے جائے گا۔‘‘ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا کہ: ’’ جب ابراہیم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’بہشت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے۔‘‘ [1] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھاگیا، آپؐ نے فرمایا کہ’’ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں پیدا کیا تھا، اسی وقت وہ خوب جانتا تھا کہ یہ کیا عمل کریں گے۔‘‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ ہر بچہ کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں ۔ بالکل اس طرح جیسے جانور کے بچے صحیح سالم ہوتے ہیں ۔ کیا تم نے (پیدائشی طور پر) کوئی ان کے جسم کا حصہ کٹا ہوا دیکھا ہے۔‘‘ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز (فجر) پڑھنے کے بعد ( عموماً) ہماری طرف منہ کرکے بیٹھ جاتے اور پوچھتے کہ ’’آج رات کسی نے کوئی خواب دیکھا ہو تو بیان کرے۔‘‘راوی نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو اسے وہ بیان کردیتا اور آپ اس کی تعبیر اللہ کو جو منظور ہوتی،بیان فرماتے۔ ایک دن آپ نے معمول کے مطابق ہم سے دریافت فرمایا: ’’ کیا آج رات کسی نے تم میں کوئی خواب دیکھا ہے؟ ‘‘ ہم نے عرض کی [1] صحیح بخاری ؍ کتاب الجنائز ؍ باب ما قیل فی اولاد المسلمین