کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 356
عورت کا کفن س: عورت میت کو کفن دیتے وقت کتنے کپڑے مسنون ہیں ؟ (قاسم بن سرور) ج: سنن أبی داؤد میں ہے: (( أَنَّ لَیْلٰی بِنْتَ قَانِفٍ الثَّقْفِیَّۃَ قَالَتْ: ’’ کُنْتُ فِیْمَنْ غَسَّلَ أُمَّ کُلْثُوْمٍ ابْنَۃَ رَسُوْلِ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عِنْدَ وَفَاتِھَا ، فَکَانَ أَوَّلُ مَا أَعْطَانَا رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم الحِقَائَ ، ثُمَّ الدِّرْعَ ، ثُمَّ الْخِمَارَ ثُمَّ الْمِلْحَفَۃَ ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِی الثَّوْبِ الْآخِرِ۔ قَالَتْ: وَرَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم جَالِسٌ عِنْدَ الْبَابِ مَعَہٗ کَفَنُھَا یُنَاوِلُنَاھَا ثَوْبًا ثَوْبًا۔‘‘ [۳؍۱۷۱ مع عون المعبود] قَالَ صَاحِبُ الْعَونِ بَعْدَ مَا نَقَلَ أَقْوَالَ أَھلِ العِلْمِ: فَالْحَدِیْثُ سَنَدُہٗ حَسَنٌ صَالِحٌ لِلْاِحْتِجَاجِ ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ۔ وَقال الحافظ فی الفتح: وروی الجوزقی من طریق إبراھیم بن حبیب بن الشہید عن ہشام عن حفصۃ عن أم عطیۃ قالت: فَکَفَنَّاھَا فِیْ خَمْسَۃِ أَثْوَابٍ ، وَخَمَرْنَاھَا کَمَا یُخْمَرُ الْحَیُّ ، وھٰذِہِ الزیادۃ صحیحۃ الإسناد۔ ۱ ھ))(۳؍ ۱۳۳) [ ’’ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ نے کہا کہ میں ان عورتوں میں شامل تھی، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کی وفات کے بعد غسل دیا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو پہلی چیز عطا فرمائی، وہ ازار تھا، پھر قمیص ، پھر اوڑھنی، پھر لحاف ، پھر اس کے بعد انہیں ایک اور کپڑے میں لپیٹا گیا، لیلیٰ نے کہا کہ ان کا کفن لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے کے پاس بیٹھے تھے اور ایک ایک کرکے یہ کپڑے ہمیں دیتے تھے۔‘‘ [1] ’’ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا۔ اور سر کو ڈھانپا ، جس طرح زندہ کو ڈھانپا جاتا ہے۔‘‘] ۷ ؍ ۷ ؍ ۱۴۲۳ھ س: کیا رمضان میں فوت ہونے والا ہر کلمہ گو جنتی ہے، اگرچہ وہ نماز نہ پڑھتا ہو۔ جہنم کے دروازے بند ہوتے ہیں ، اس کا کیا مطلب ہے؟ (محمد شکیل ، فورٹ عباس) ج: کلمہ گو اگر مسلم و مؤمن ہے تو جنتی ہے، خواہ رمضان المبارک میں فوت ہو، خواہ کسی اور ماہ میں ۔ کلمہ گو اگر کافر یا مشرک ہے تو جہنمی ہے ، خواہ رمضان المبارک میں مرے، خواہ کسی اور ماہ میں ۔ جہنم کے دروازے رمضان المبارک میں بند رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ رمضان میں مرنے والے کافر یا مشرک [1] ابو داؤد ؍ کتاب الجنائز ؍ باب فی کفن المرأۃ