کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 355
کتاب الجنائز…جنازے کے مسائل س: ایک آدمی جنابت کی حالت میں سوجاتا ہے اور اگر وہ اسی حالت میں فوت ہوجائے تو جبکہ غسل دینے والوں کو نہیں پتہ یہ جنابت کی حالت میں ہے، اس کے متعلق کیا اللہ کا فیصلہ ہوگا، رات کو سونے سے پہلے اس نے دعا ئیں پڑھیں ، گناہوں کی معافی مانگی ؟ (حامد رشید ، لاہور) ج: ہر میت کو غسل دیا جاتا ہے ، اگر فوت ہونے والا حالت جنابت میں غسل کیے بغیر فوت ہوگیا ہے تو جو غسل اس کو دیا جائے گا، اس سے غسل جنابت بھی ادا ہوجائے گا۔ ان شاء اللہ سبحانہ وتعالیٰ۔ لہٰذا فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور جو اس سے اس سلسلہ میں کوتاہی سرزد ہوئی تو جنازے میں اس کے لیے استغفار ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمادیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز الحکیم۔ ۲۹ ؍ ۸ ؍ ۱۴۲۳ھ غسل میت کا شرعی طریقہ میت کو غسل دینے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے انسان میت کی شرمگاہ کو دھوئے، پھر اسے غسل دینا شروع کرے اور پہلے اسے وضوء کرائے، لیکن اس کے منہ اور ناک میں پانی نہ ڈالے، بلکہ کپڑے کو پانی سے تر کرکے اس کے منہ اور ناک کو صاف کردے، پھر باقی جسم کو ایسے پانی سے دھوئے ، جس میں بیری کے پتے ملے ہوئے ہوں ۔ آخری بار جسم پر پانی بہاتے ہوئے اس میں کافور بھی شامل کرلیا جائے جوکہ ایک معروف خوشبو ہے۔ اگر میت کے جسم پر زیادہ میل ہو تو اسے زیادہ بار غسل دیا جائے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خواتین سے فرمایا تھا جو آپ کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں ۔ (( اِغْسِلْنَھَا ثَلاَثًا اَوْ خَمْسًا اَوْ سَبْعًا اَوْ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ اِنْ رَاَیْتُنَّ ذٰلِکَ)) [1] ’’ اسے تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو اور اگر ضرورت محسوس کرو تو اس سے زیادہ بار بھی غسل دے سکتی ہو۔‘‘ غسل کے بعد میت کے جسم سے پانی کو صاف کردیا جائے اور اسے کفن پہنادیا جائے۔ [1] صحیح البخاری ؍ الجنائز ؍ باب یجعل الکافور فی الأخیرۃ ، صحیح مسلم ؍ الجنائز ؍ باب فی غسل المیت