کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 347
ہے؟ حدیث سے ثابت فرمائیں ؟ (ظفر اقبال، نارووال) ج: سورج کا رنگ سفید ہوجائے کراہت کا وقت گزر جائے تو نماز عید کا وقت شروع ہوجاتا ہے۔ عشاء کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے لوگ جمع ہوگئے ہیں تو نماز جلدی پڑھ لیتے اور دیکھتے لوگ تاخیر کررہے ہیں تو نماز تاخیر سے پڑھ لیتے۔ [1] اس چیز کو عیدین میں بھی ملحوظ خاطر رکھا جاسکتا ہے۔ واللہ اعلم ۔ ۲۰ ؍ ۱۲ ؍ ۱۴۲۲ھ س: نماز عید کا مکمل طریقہ کیا ہے؟ (محمد شکیل ، فورٹ عباس) ج: نماز عید عام نماز کی طرح دو رکعت نماز ہے۔ صرف اتنی چیز ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں قراء ت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قراء ت سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے۔ [2] اور پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۃ الأعلیٰ اور دوسری رکعت میں ﴿ ھَلْ اَتَاکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ﴾ پڑھا کرتے تھے۔ اور کبھی پہلی رکعت میں ﴿ قٓ o وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ ﴾اور دوسری رکعت میں ﴿ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقُّ الْقَمَرُ﴾تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ [3] تفصیل کے لیے دیکھیں : ’’ کتاب القول السدید فی تکبیرات العید از مولانا عبدالرحمٰن صاحب محدث مبارکپوری صاحب تحفۃ الاَحوذی‘‘ ۱۲؍ ۱۰ ؍ ۱۴۲۱ھ س: عیدین کی نماز میں زوائد تکبیریں یعنی پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کیا یہ صحیح حدیث سے ثابت ہیں ؟ اگر ثابت ہیں تو حدیث باحوالہ تحریر فرمائیے؟ (محمد یونس شاکر) ج: ہاں ثابت ہیں ۔ [(( عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم کَانَ یُکَبِّرُ فِی الْفِطْرِ وَالْأَضْحٰی فِی الْأُوْلٰی سَبْعَ تَکْبِیْرَاتٍ وَفِی الثَانِیۃَ خََمْسًا)) ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے اور دوسری رکعت میں پانچ۔‘‘ ] [4] [1] مسلم ؍ المساجد ؍ باب استحباب التبکیر بالصبح [2] ابو داود ؍ کتاب الصلوٰۃ ؍ باب التکبیر فی العیدین [3] مسلم ؍ صلاۃ العیدین ؍ باب ما یقرا فی صلاۃ العیدین [4] ابو داود ؍ المجلد الاول ؍ کتاب الصلوٰۃ ؍ باب التکبیر فی العیدین ] اسے امام احمد اور علی بن مدینی نے صحیح کہا ہے۔