کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 344
چیز نہیں مل سکی ، جس کی بنیاد پر کہا جاسکے کہ یہ الفاظ خطبۂ نبویہ میں ثابت ہیں ۔‘‘ مفتی صاحب کا یہ بیان پڑھ لینے کے بعد مجھے مکتوب لکھنے کی چنداں ضرورت نہ تھی، کیونکہ مفتی صاحب کے مندرجہ بالا بیان سے واضح ہے کہ جن روایات کو آپ اور بہاری صاحب مع الاسناد بتاتے ہیں ، ان کی اسانید بھی کمزور ہیں ۔ معتمد اور مستند نہیں ۔ ۲۲ ؍ ۱ ؍ ۱۴۲۴ھ س: خطبہ جمعہ ، خطبہ نکاح کے الفاظ صحیح احادیث کی روشنی میں بیان فرمائیں ۔ کیا خطبہ میں درودِ ابراہیمی پڑھ سکتے ہیں ۔ کیا (( نُوْمِنُ بِہٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْہِ)) کے الفاظ ثابت ہیں ؟ (عنایت اللہ امین، ضلع قصور) ج: خطبہ ، خطبہ کے الفاظ ، خطبہ میں درود اور خطبہ کے مواقع کے متعلق محدث وقت فقیہ دوراں شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان کتاب خطبہ الحاجۃ کا مطالعہ فرمائیں ، بہت فائدہ ہوگا۔ ان شاء اللہ الحنان۔ ۱۳ ؍ ۵ ؍ ۱۴۲۱ھ [خطبہ رحمۃ للعالمین صلی ا للّٰه علیہ وسلم (( إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہٗ وَنَسْتَعِیْنُہٗ وَنَسْتَغْفِرُہٗ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَسَیِّاٰتِ أَعْمَالِنَا مَنْ یَّھْدِہِ ا للّٰه فَلاَ مُضِلَّ لَہٗ وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ اِلاَّ ا للّٰه وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ﴿ یٰٓأَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا ا للّٰه حَقَّ تُقَاتِہٖ وَلاَ تَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَأَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴾ [آل عمران:۱۰۲] ﴿ یٰأَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَِثیْرًا وَّنِسَآئً وَّاتَّقُوا ا للّٰه الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ ا للّٰه کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا o﴾ [النساء:۱] ﴿یٰأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا ا للّٰه وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا o یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ ا للّٰه وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا o﴾ [الأحزاب:۷۰ ، ۷۱] أَمَّا بَعْدُ! فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ ا للّٰه وَأَحْسَنَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ صلی ا للّٰه علیہ وسلم وَشَرُّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُھَا وَکُلُّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ وَکُلُّ ضَلاَلَۃٍ فِی النَّارِ۔))[1] [1] مسلم ؍ کتاب الجمعۃ باب رفع الصوت فی الخطبۃ ومایقول فیھا ، النسائی ؍ کتاب الجمعۃ باب کیفیۃ الخطبۃ ؍ کتاب العید ین باب کیف الخطبۃ ، الترمذی ؍ کتاب النکاح ؍ باب ماجاء فی خطبۃ النکاح ، ابوداؤد ؍ کتاب النکاح باب فی خطبۃ النکاح ، سنن دارمی ؍ کتاب النکاح ؍ باب فی خطبۃ النکاح