کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 342
سراً ’’ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلٰی ‘‘کہہ لے تو درست ہے۔ ۱۰ ؍ دسمبر ۲۰۰۰ء س: از عبدالمنان نور پوری بطرف عالم حقانی جناب مبشر احمد صاحب ربانی۔ جہاد ٹائمز جلد ۲ شمارہ نمبر ۲۲ ،۲۱ تا ۲۷ ذوالحجہ ۱۴۲۱؁ھ والے پرچہ میں بسلسلہ تفہیم دین ’’ نماز جمعہ کی کل رکعتیں ‘‘ عنوان کے تحت جناب لکھتے ہیں : ’’ صحیح البخاری کتاب الجمعہ میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اس وقت آئے، جب امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعت پڑھنے کے بغیر نہ بیٹھے۔‘‘ صحیح البخاری کتاب الجمعہ میں یہ الفاظ: (( جَائَ رَجُلٌ وَالنَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم یَخْطُبُ النَّاسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ، فَقَالَ: أَصَلَّیْتَ یَا فُلاَنُ۔ فَقَالَ: لاَ۔ قَالَ: قُمْ ، فَارْکَعْ )) اور (( دَخَلَ رَجُلٌ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالنَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم یَخْطُبُ ، فَقَالَ: أَصَلَّیْتَ۔ قَالَ: لا۔ قَالَ: قُمْ ، فَصَلِّ رَکْعَتَیْنِ)) تو ملے ہیں ، مگر آپ کے ذکر کردہ الفاظ نہیں ملے۔ برائے مہربانی صحیح بخاری یا کسی اور کتاب سے ان الفاظ کا حوالہ بیان فرمادیں ۔ ج: از ابو الحسن مبشر احمد ربانی بطرف حافظ عبدالمنان صاحب نور پوری۔ جہاد ٹائمز میں فروگزاشت میری غفلت کا نتیجہ ہے۔ لکھتے وقت اصل کی طرف مراجعت نہ کرسکا۔ یہ دراصل صحیح البخاری کی حدیث ابوقتادہ رضی اللہ عنہ ((اذا دخل احدکم المسجد فلا یجلس حتی یصلی رکعتین)) [رقم:۱۱۶۳]جو دوسرے مقام پر یوں ہے: (( اذا دخل احدکم المسجد فلیرکع رکعتین قبل ان یجلس)) [رقم:۴۴۴]سے التباس کی وجہ سے ہوا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ صحیح البخاری (۱۶۶) میں یوں بھی مروی ہیں : (( اذا جاء احدکم والامام یخطب أو قد خرج فلیصل رکعتین)) اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہی کی معافی کا درخواستگار ہوں ۔ آپ سے بھی دعا کی اپیل ہے۔ آپ نے تحریر فرمایا: ’’ برائے مہربانی صحیح بخاری یا کسی اور کتاب سے ان الفاظ کا حوالہ بیان فرمادیں ۔‘‘ تو عرض یہ ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث بایں الفاظ: (( اذا جاء احدکم المسجد والامام یخطب فلیصل رکعتین قبل ان یجلس)) [صحیح ابن خزیمہ (۱۸۳۱)]اور [تقریب البغیۃ بترتیب احادیث الحلیۃ للھیثمیؒ (۹۳۴) ۱؍۳۴۳] میں اور (( اذا جاء احدکم یوم الجمعۃ والامام یخطب فلیصل رکعتین خفیفتین ثم لیجلس)) دار قطنی (۱۵۹۵) میں اور (( اذا جاء احدکم ولم یکن صلی فلیصل رکعتین ثم لیجلس۔ وذاک یوم الجمعۃ)) کتاب معجم شیوخ ابن الاعرابی (۲۰۰) میں موجود ہیں