کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 340
آتا ہے اور خطبہ شروع ہونے تک جس قدر ہوسکے ، نوافل ادا کرتا ہے، پھر خطبہ جمعہ شروع سے آخر تک خاموشی سے سنتا ہے، تو اس کے گزشتہ جمعہ سے لے کر اس جمعہ تک اور مزید ۳ دن کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں ۔ ‘‘] س: جمعہ کی نماز کا اول وقت کیا ہے؟ (عبدالغفور، شاہدرہ) ج: اکثر اہل علم کے ہاں نماز جمعہ کا وقت وہی ہے جو ظہر کا ہے۔ زوال شمس سے لے کر ایک مثل تک تو ظاہر ہے ، اول وقت زوال آفتاب سے متصل وقت ہی ہے باقی وہ نصف تک ہے یا چوتھائی تک یا تہائی تک اس کا مجھے علم نہیں ۔ ۹؍۴؍۱۴۲۱ھ س: جس شخص کا جمعہ رہ جائے وہ کیا کرے؟ کیا وہ دو رکعتیں ہی ادا کرے گا یا چار رکعت؟ ہمارے علاقے میں علماء کے مطابق وہ دو رکعتیں ہی ادا کرے گا۔ اس بارے میں وہ مندرجہ ذیل حدیث کو پیش کرتے ہیں کہ : ’’ ایک شخص نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ جس کا جمعہ رہ جائے تو وہ کیا کرے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ دو رکعتیں ہی پڑھے، کیونکہ یہ ابن عبداللہ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔‘‘ [تاریخ اصبہان] وہ کہتے ہیں کہ ہمارے شیخ سید بدیع الدین شاہ راشدی کے مطابق یہ حدیث ثابت ہے اور اس پر ہی عمل کیا جائے۔ جبکہ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اس حدیث کے دو راویوں کا ہمیں ترجمہ نہیں ملتا۔ اس لیے ہمارے نزدیک وہ حدیث قابل عمل ہے جس میں ہے کہ جس کا جمعہ رہ جائے وہ ظہر کی چار رکعتیں ادا کرے، اس کو نور الدین ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر کرنے کے بعد کہا ہے کہ اس کی سند حسن ہے لہٰذا اس پر عمل کرنا چاہیے۔ جبکہ پہلا گروہ پھر اعتراض کرتا ہے کہ امام ہیثمی کو وہم ہوگیا ہے کہ انہوں نے ضعیف سند کو حسن کہہ دیا۔ محترم! آپ سے گزارش ہے کہ آپ اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی کریں تاکہ ہم صحیح سنت کے مطابق عمل کرسکیں ۔ (ابوطلحہ محمد سجاد احمد سلفی، اوکاڑہ) ج: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے امام دار قطنی رحمہ اللہ نے مرفوعاً بیان فرمایا ہے: (( مَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنْ یَومِ الْجُمُعَۃِ فَقَدْ أَدْرَکَھَا ، وَلْیُضِفْ إِلَیْھَا أُخْرٰی)) [ ’’ جس نے جمعہ کے دن ایک رکعت پالی ، تو اس نے جمعہ کو پالیا وہ اس کے ساتھ پچھلی رکعت ملالے۔ ‘‘]اور ایک روایت میں ہے: (( مَنْ أَدْرَکَ مِنَ الْجُمُعَۃِ رَکْعَۃً فَلْیَصِلْ إِلَیْھَا أُخْرٰی)) [’’جو جمعہ سے ایک رکعت پالے تو اس کے ساتھ دوسری