کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 337
سیوطی کے اس قول کا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں :’’اگر نص کے ساتھ(صاف لفظوں میں ) اس کی تعداد ثابت ہوتی تو اس سے زیادتی کرنا کبھی جائز نہ ہوتا اور اہل مدینہ اور صدر اول کے لوگ اس سے زیادہ بچنے والے تھے۔‘‘ اور شوکانی کے گزشتہ قول ’’ اس نماز کو جس کا نام تراویح ہے کسی معین عدد پر بند کرنا .....الخ ‘‘ کا مطب بھی یہی ہے۔‘‘ س: کیا آٹھ تراویح پڑھنا کوئی اس کو درست کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ ہی ثابت ہیں ۔ حنفیوں میں سے کوئی اس کی تصدیق کرتا ہے؟(محمد شکیل ، فورٹ عباس) ج: صلاۃ اللیل ؍ قیام اللیل؍ تہجد ؍ صلاۃ الوتر اور تراویح قیام رمضان اور صلاۃ رمضان ایک ہی نماز کے متعدد نام ہیں ۔ افتتاحی دو رکعات اور وتر کے بعد والی دو رکعات نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان وغیر رمضان میں گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ مولانا انور شاہ صاحب کشمیری محدث حنفی رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول ’’ العرف الشذی ‘‘میں موجود ہے: (( لا مناص من تسلیم أن تراویحہ صلی اللّٰه علیہ وسلم کانت ثمانی رکعات ولم یثبت فی روایۃ من الروایات أنہ صلی اللّٰه علیہ وسلم صلی التہجد والتراویح علی حدۃ فی رمضان)) [’’ اور یہ بات تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تراویح آٹھ رکعات تھیں اور روایات میں سے کسی ایک روایت میں ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں تراویح اور تہجد الگ الگ پڑھی ہو۔‘‘[1] س: مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں تراویح (۲۰) بیس رکعات پڑھی جاتی ہے، کیا ایسا کرنا درست ہے؟ (محمد سلیم بٹ) ج: مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ یا دیگر کسی مقام کے قراء ، علماء اور خلفاء دین میں دلیل نہیں ۔ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ اِتَّبِعُوْا مَآ أُنْزِلَ إِلَیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَلَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ أَوْلِیَآئَ قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ﴾ [الأعراف:۳][ ’’ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ، اسی کی پیروی کرو اس کے علاوہ دوسرے سر پرستوں کی پیروی نہ کرو، تھوڑی ہی تم نصیحت مانتے ہو۔‘‘ ] نیز قرآنِ مجید میں ہے: ﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ إِلَی ا للّٰه وَالرَّسُوْلِ إِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ط﴾ [النساء:۵۹][ ’’ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں جھگڑا ہوجائے تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی [1] العرفُ الشذی علی ترمذی ، ص:۱۶۶ ، الجلد الاول ، مطبوعہ کراچی