کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 336
باربعین رکعۃ یوترون بثلاث وآخرون بست و ثلاثین و اوتر و ابثلاث و ھذا کلہ حسن سائغ ومن ظن ان قیام رمضان فیہ عدد معین موقت عن النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم لا یزید ولا ینقص فقد اخطأ۔ ۱ھ (ج:۳، ص:۱۹۳))) ’’ترجمہ:.....ابن تیمیہ حنبلی نے فرمایا: ’’جان لے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح میں کوئی معین عدد مقرر نہیں فرمایا بلکہ رمضان اور غیر رمضان میں تیرہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔‘‘ لیکن رکعات کو طویل کرتے تھے ، پس جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ابی رضی اللہ عنہ پر جمع کر دیا تو وہ انہیں بیس رکعات پڑھاتے تھے پھر تین وتر پڑھاتے اور قراء ت اتنی ہلکی کر لیتے جتنی رکعات بڑھائی تھیں کیونکہ یہ چیز مقتدیوں کے لیے ایک رکعت لمبی کرنے سے زیادہ آسان تھی۔پھر سلف میں سے کچھ لوگ چالیس رکعت قیام اور تین وتر پڑھتے تھے اور کچھ دوسرے حضرات چھتیس رکعت قیام اور تین وتر ادا کرتے تھے او یہ سب صورتیں اچھی اور جائز ہیں اور جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ قیام رمضان میں کوئی تعداد معین ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی ہے اور جسے انسان نہ کم کر سکتا ہے نہ زیادہ تو اس شخص نے خطا کی ۔ انتہی (ج:۳، ص:۱۹۳)‘‘ (( اقول : ان الحافظ ابن تیمیۃ رحمہ اللّٰه تعالیٰ لم ینف فی کلامہ ھذا ثبوت العدد المعین فی التراویح عن النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم کما توھمہ بعض الناس الیوم ، بل قد اثبت فیہ العدد المعین فیھا عنہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم حیث قال : لا یزید فی رمضان ولا فی غیرہ علی ثلاث عشرۃ رکعۃ۔ وانما نفی فیہ توقیف العدد المعین فیھا عن النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم وھذا ھو المراد بقول السیوطی: ولو ثبت عد دھا بالنص لم تجز الزیادۃ علیہ ولا ھل المدینۃ والصدر الاول کانوا اورع من ذالک ، وبقول الشوکانی الماضی : فقصر الصلاۃ المسماۃ بالتراویح علی عدد معین.....الخ)) ’’میں کہتا ہوں ، حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے اس کلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح میں معین عدد کے ثبوت کی نفی نہیں فرمائی جیسا کہ آج کل بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے۔ بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح میں معین عدد یہ کہہ کر ثابت فرمایا کہ رمضان اور غیر رمضان میں تیرہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۔ نفی صرف اس بات کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی معین عدد مقرر فرما دیا ہو یہی مطلب