کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 332
فی سندہ باشیبۃ ولیس الامر کذالک الخ(ج:۳، ص:۵۳) اقول : وقد تقدم فی کلام الحافظ والعینی ما یدل علی ان قول ابن اسحاق : وھذا اثبت ما سمعت فی ذالک ۔ فی حق روایۃ محمد ابن یوسف عن السائب بن یزید قال : کنا نصلی فی زمن عمر فی رمضان ثلاث عشرۃ رکعۃ۔ ولیس قولہ المذکور فی حق روایۃ یزید بن رومان قال : کان الناس فی زمن عمر یقومون فی رمضان بثلاث و عشرین رکعۃ۔ کما توھمہ الشوکانی ، فوھم صاحب ضوء النھار فی قولہ : ان فی سند روایۃ یزید بن رومان ابا شیبۃ۔ ووھم صاحب اللیل فی جعل قول ابن اسحاق: وھذا اثبت ما سمعت فی ذالک۔ فی حق روایۃ یزید بن رومان ولیس الامر کذالک فتفکر)) ’’ترجمہ:.....میں کہتا ہوں ،شوکانی کا مقصد اپنے قول ’’تراویح کو کسی معین عدد پر بند کرنا الخ ‘‘ سے یہ نہیں کہ رمضان کی نماز میں معین عدد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں جیسا کہ آج کل بعض لوگوں کا خیال ہے اور ان کا مقصد یہ نہ ہونے کی دلیل وہ قول ہے جو انہوں نے اس سے پہلے فرمایا کہ ’’رہی وہ تعداد جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کی نماز میں ثابت ہے الخ‘‘ بلکہ ان کا مقصد نماز کو عد دمعین پر بند نہ کرنے سے وہ ہے جس کی طرف اس عبارت سے پہلے اس قول کے ساتھ اشارہ کیا ’’ لیکن اس نماز کو اس طریقے سے ادا کرنا جس طرح آج کل کرتے ہیں کہ ہر رات خاص تعداد اور خاص قراء ت کی پابندی کرتے تھے تو اس پر کلام عنقریب آئے گا۔ ۱ھ (نیل الاوطار ، ج:۳، ص:۵۲) اس عبارت میں جس کلام کے آنے کا وعدہ کیا گیا ہے وہ ہے جس میں کہا ہے کہ تراویح کو کسی عدد معین پر بند کرنا ۔الخ فائدہ:.....شوکانی نے نیل الاوطار میں صاحب المنتقی کے قول : (( وما لک فی المؤطا عن یزید بن رومان قال کان الناس فی زمن عمر یقومون فی رمضان بثلاث و عشرین رکعۃ)) کی شرح میں فرمایا.....قولہ (( بثلاث وعشرین رکعۃ)) ابن اسحاق نے کہا یہ سب سے زیادہ پختہ روایت ہے جو میں نے اس مسئلہ میں سنی اور ضوء النہار میں مصنف کو وہم ہوا پس کہا ہے کہ اس کی سند میں ابو شیبہ ہے حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے ۔ الخ۔(ج:۳، ص:۵۳)