کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 330
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے پہلے حکم ہی پر اکتفا کرتے ہوئے انہیں بیس پڑھنے سے منع نہ فرمایا ، پھر اس لیے بھی کہ بیس رکعات قیام رمضان بھی آخر نفلی عبادت ہی ہے گو رتبہ میں گیارہ رکعات قیام رمضان کے بوجوہ برابر نہیں مگر یہ بھی تب لازم آتا ہے جب کہ لوگوں کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم گیارہ رکعات کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی میں بیس رکعات پڑھنا ثابت ہو اور ظاہر ہے کہ اس کی کوئی دلیل نہیں نیز یاد رہے کہ بیس رکعات سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے منع نہ فرمانے کا کسی روایت میں صراحتاً ذکر نہ ہونے سے ان کا بیس رکعات سے منع نہ فرمانا ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی اس سے منع فرمانا ثابت ہوتا ہے ۔ بہر حال لوگوں کا بیس رکعت پڑھنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے گیارہ کا حکم دینے سے پہلے ہو یا بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے گیارہ کا حکم دینے سے متعارض نہیں لہٰذا اس مقام پر نہ تطبیق کی ضرورت ہے نہ ہی ترجیح کی ، رہا یہ سوال کہ کئی علماء کرام نے تطبیق یا ترجیح کی راہ اختیار فرمائی ہے تو وہ ان بزرگوں کی تحقیق ہے ، بندہ نے اپنی تحقیق پیش کی ہے ۔فتدبر وثامناً:.....حضرت المؤلف نے علامہ شوکانی کے تطبیق کو اختیار کرنے کا تذکرہ فرمایا ہے سووہ تطبیق وہی ہے جس کا حافظ ابن حجر کے کلام میں ذکر ہو چکا ہے البتہ مناسب ہے کہ اس مسئلہ کے بارہ میں علامہ شوکانی کی تحقیق بھی نقل کر دی جائے چنانچہ لکھتے ہیں : ((قال الحافظ: والجمع بین ھذہ الروایات .....إلی أن قال : ھذا حاصل ما ذکرہ فی الفتح من الاختلاف فی ذالک و اما العددا الثابت عنہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم فی صلاتہ فی رمضان فأخرج البخاری وغیرہ عن عائشۃ انھا قالت : ما کان النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم یزید فی رمضان ولافی غیر ہ علی احدی عشرۃ رکعۃ۔ واخرج ابن حبان فی صحیحہ من حدیث جابر انہ صلی ا للّٰه علیہ وسلم صلی بھم ثمان رکعات ثم اوتر۔ واخرج البیہقی عن ابن عباس کان یصلی فی شھر رمضان فی غیر جماعۃ عشرین رکعۃ والوتر۔ زاد سلیم الرازی فی کتاب الترغیب لہ ویوتربثلاث۔ قال البیہقی : تفردبہ ابوشیبۃ ابراہیم بن عثمان وھو ضعیف۔ واما مقدار القراء ۃ فی کل رکعۃ فلم یرد بہ دلیل والحاصل ان الذی دلت علیہ احادیث الباب و ما یشابھھا ھو مشروعیۃ القیام فی رمضان والصلاۃ فیہ جماعۃ وفرادی فقصر الصلاۃ المسماۃ بالتراویح علی عدد معین و تخصیصھا بقراء ۃ مخصوصۃ لم یرد بہ سنۃ۔‘‘ ۱ھ(نیل الاوطار ، ج:۳، ص:۵۳) ’’حافظ نے فرمایا: اور ان روایتوں کے درمیان تطبیق .....یہاں تک کہ شوکانی نے کہا کہ یہ اس اختلاف