کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 326
مضائقہ نہیں اور شافعی سے ہی راویت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر قیام طویل کر دیں اور سجدہ کی تعداد کم کر دیں تو اچھا ہے اور سجود زیادہ کریں اور قراء ت ہلکی کر دیں تو بھی اچھا ہے اور پہلی بات مجھے زیادہ محبوب ہے۔ ۱ھ(ج:۴، ص:۲۵۳) (( فظھران القیام باحدی عشرۃ او ثلاث عشرۃ اذا اطیل القیام والقراء ۃ فیھا افضل عند الا ما مین الھا مین ابی حنیفۃ والشافعی ایضا من القیام بثلاث و عشرین و تسع و ثلاثین واحدی و اربعین اذا خفف القرائۃ والقیام فیھا والعمل فی بلاد نا الیوم ان الذین یصلون احدی عشرۃ او ثلاث عشرۃ تکون قراء تھم مساویۃ لقراء ۃ الذین یصلون ثلاثا وعشرین الا نادرا وکذا یکون قیام الاولین اطول من قیام الٓاخرین غالباً فیکون عمل الاولین فی قیام رمضان افضل عند ابی حنیفۃ والشافعی ایضاً من عمل الاخرین فیہ فتدبرثم التطبیق الذی حکاہ صاحب الرسالۃ عن ابن عبدالبر وغیرہ قد بنی علی تخفیف القیام والقراء ۃ فی ثلاث و عشرین او احدی و عشرین کمایظھر ذالک من عبارۃ ابن عبدالبر نفسہ و من ترجمتھا الاردویۃ التی ذکرھا المصنف و یظھر ذالک من کلام الباجی ایضا حیث قال :فامرھم اولا بتطویل القراء ۃ لانہ افضل ثم ضعف الناس فامرھم بثلاث و عشرین فخفف من طول القراء ۃ واستدرک بعض الفضیلۃ بزیادۃ الرکعات وقال ایضا : وکان الامر علی ذالک الی یوم الحرۃ فثقل علیھم القیام فنقصوا من القرأۃ وزاد وا لرکعات فجعلت ستاوثلاثین غیر الشفع والوتر وذکر ابن حبیب انھا کانت اولا احدی عشرۃ کانوا یطیلون القراء ۃ فثقل علیھم فخففوا القراء ۃ وزادوا فی عدد الرکعات فکانو یصلون عشرین رکعۃ غیر الشفع والوتر بقراء ۃ متوسطۃ ثم خففوا القراء ۃ وجعلوا الرکعات ستاو ثلاثین غیر الشفع والوتر، ومضی الامر علی ذالک وروی محمد بن نصر عن داؤد بن قیس قال : ادرکت الناس فی امارۃ ابان بن عثمان و عمر بن عبدالعزیز یعنی بالمدینۃ یقومون بست و ثلاثین رکعۃ ویوترون بثلاث و قال مالک ھو الامر القدیم عندنا۔۱ھ (شرح