کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 325
یاد رکھو! اللہ کی قسم! یقینا میں تم سب سے زیادہ اللہ کی خشیت رکھنے والا اور تم سب سے زیادہ اللہ کا تقویٰ رکھنے والا ہوں .....الخ۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ جو عمل آپ کی سنت اور طریقے کے مطابق ہو خواہ کم ہی ہو اس عمل سے افضل ہے جو آپ کی سنت اور طریقے کے مخالف ہو خواہ وہ زیادہ ہی ہو تو گیارہ یا تیرہ رکعت قیام اگرچہ بظاہر نظر کم ہے تئیس اور چھتیس رکعت قیام سے افضل ہے اگرچہ ظاہر دیکھنے میں وہ زیادہ ہی ہے کیونکہ پہلی تعداد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہے اور دوسری اس کے مخالف ہے اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ نفل نماز میں قیام اور قراء ت کا طویل ہونا رکوع وسجود کی کثرت سے افضل ہے۔ یہ ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد کا مذہب ہے اور شافعی کا قول بھی یہی ہے ، طحاوی نے شرح معانی الاثار میں فرمایا: ’’ جو لوگ اس آخری قول یعنی قیام طویل کرنے اور کثرت رکوع وسجود سے اس کے افضل ہونے کے قائل ہیں ان میں محمد بن حسن بھی شامل ہیں ۔ مجھے یہ بات ابن ابی عمران نے محمد بن سماعہ سے بیان کی ، انہوں نے محمد بن حسن سے اور یہی قول ابو حنیفہ ، ابو یوسف اور محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ کا ہے ۔ (ج:۱ ، ص:۳۲۱) (( وقال الحافظ فی الفتح : وروی محمد بن نصر من طریق داؤد بن قیس قال : ادرکت الناس فی امارۃ ابان بن عثمان و عمر بن عبدالعزیز یعنی بالمدینۃ یقومون بست و ثلاثین رکعۃ و یوترون بثلاث و قال مالک ھو الامر القدیم عندنا وعن الزعفرانی عن الشافعی رایت الناس یقومون بالمدینۃ بتسع و ثلاثین و بمکۃ بثلاث و عشرین و لیس فی شیٔ من ذالک ضیق و عنہ قال : ان اطالو القیام واقلوا السجود فحسن و ان اکثر و السجود و اخفو القراء ۃ فحسن والاول احب الی۔ ۱ھ(ج:۴، ص:۲۵۳))) ’’ترجمہ:.....اور حافظ نے فتح الباری میں فرمایا: ’’ اور محمد بن نصر نے داؤد بن قیس کے طریق سے روایت کی انہوں نے فرمایا کہ میں نے لوگوں کو ابان بن عثمان اور عمر بن عبدالعزیز کی (مدینہ میں ) امارت کے زمانہ میں پایا کہ وہ چھتیس رکعت قیام کرتے تھے اور تین وتر پڑھتے تھے اور مالک نے فرمایاکہ یہ ہمارے ہاں قدیم دستور ہے اور زعفرانی نے شافعی سے بیان کیا کہ میں نے لوگوں کو مدینہ میں دیکھا کہ انتالیس رکعت قیام کرتے تھے اور مکہ میں تئیس رکعت اور ان میں سے کسی میں بھی