کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 324
صلی ا للّٰه علیہ وسلم و من المعلوم ان خیر الھدی ھدی محمد صلی ا للّٰه علیہ وسلم وقد قال صلی ا للّٰه علیہ وسلم للثلاثۃ الذین تقالوا عبادتہ : انتم الذین قلتم کذا و کذا اما واللّٰه انی لا حشاکم للّٰه و اتقاکم لہ .....الخ۔ وھو یدل علی ان ما وافق سنۃ النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم وطریقتہ ولو کان قلیلا افضل مماخالفھا ولو کان کثیرا فالقیام باحدی عشرۃ و ثلاث عشرۃ و ان کان قلیلا فی بادی الرأی افضل من القیام بثلاث و عشرین وست و ثلاثین و ان کان کثیرا فی بادی الرأی لموافقۃ الاول سنۃ النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم و مخالفۃ الثانی ایاھا و قد ثبت ان طول القیام والقرأۃ افضل من اکثرۃ الرکوع والسجود فی صلاۃ التطوع وھو مذہب ابی حنیفۃ و ابی یوسف و محمد وھو قول الشافعی قال الطحاوی فی شرح معانی الاثار: وممن قال بھذا القول الاخر فی اطالۃ القیام وانہ افضل من کثرۃ الرکوع والسجود محمد بن الحسن۔ حدثنی بذالک ابن ابی عمران عن محمد بن سماعۃٓ عن محمد بن الحسن وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف و محمد رحمہم اللّٰه تعالیٰ (ج:۱، ص:۳۲۱))) ’’ترجمہ:.....میں کہتا ہوں ، اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیام کے وقت میں بھی لوگوں کی راہنمائی افضل وقت کی طرف فرمائی یہ کہہ کر کہ جس وقت میں لوگ سو جاتے ہیں وہ اس سے افضل ہے جس میں قیام کرتے ہیں ، یعنی رات کا آخری حصہ اور لوگ رات کے شروع حصہ میں قیام کرتے تھے اور قیام کی کیفیت میں بھی افضل کی طرف رہنمائی کی کہ انہیں ایک قاری پر جمع کر دیا اور یہ بات ان کے اس قول سے ظاہر ہے کہ اگر میں ان لوگوں کو ایک قاری پر جمع کر دوں تو افضل ہو تو قیام کی تعداد میں بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کی رہنمائی افضل کی طرف ہی کر سکتے تھے۔ اسی لیے انہوں نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت قیام کروائیں اور قاری سو سو آیات کی سورتیں پڑھتا اور لوگ طویل قیام کی وجہ سے لاٹھیوں کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے ، اور فجر کے قریب جا کر ہی فارغ ہوتے تھے اور قیام میں یہ تعداد اس لیے افضل ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور معلوم ہے کہ سب طریقوں سے بہتر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں آدمیوں کو فرمایا جنہوں نے آپ کی عبادت کو کم سمجھا تھا کہ کیا تم وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی ایسی باتیں کی ہیں