کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 323
میں کافروں پر لعنت کرتے تھے فرمایا کہ قاری سورۂ بقرہ آٹھ رکعتوں میں پڑھتا تھا تو جب وہ اسے بارہ رکعتوں میں پڑھتا تو لوگ سمجھتے کہ اس نے تخفیف کر دی ہے اسے مالک نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ (۱ھ ص:۲۰۳) (( وقال المحدث المبارکفوری: قد جمع البیہقی وغیرہ بین روایتی السائب المختلفتین المذکورین بانھم کانو یقوموں باحدی عشرۃ رکعۃ ثم کانوا یقومون بعشرین یوترون بثلاث قلت: فیہ انہ لقائل ان یقول بانھم کانوا یقومون اولا بعشرین رکعۃ ثم کانوا یقومون باحدی عشرۃ رکعۃ وھذا ھوا لظاہر لان ھذا کان موافقا لما ھو الثابت عن رسول اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم وذاک کان مخالفا لہ فتفکر۔۱ھ(تحفۃ الاحوذی ج:۲،ص:۷۶))) ’’ترجمہ:.....اور محدث مبارک پوری نے فرمایا: ’’بیہقی وغیرہ نے سائب کی مذکورہ دونوں مختلف روایتوں کے درمیان اس طرح تطبیق دی ہے کہ وہ پہلے گیارہ رکعت قیام کرتے تھے ، پھر بیس رکعت قیام کرتے تھے اور تین وتر پڑھتے تھے ، میں کہتا ہوں اس میں یہ ہے کہ کہنے والا یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ پہلے بیس رکعت قیام کرتے رہے ، پھر گیارہ رکعت قیام کرنے لگے اور ظاہر یہی بات ہے کیونکہ یہ اس تعداد کے مطابق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور وہ اس کے مخالف ہے ۔فتفکر ۱ھ(تحفۃ الاحوذی، ج:۲، ص:۷۶) (( اقول : ویؤیدہ ان عمر بن الخطاب رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ قد ارشدھم الی الافضل فی وقت القیام بقولہ : والتی ینامون عنھا افضل من التی یقومون یرید آخر اللیل و کان الناس یقومون اولہ الافضل فی کیفیۃ القیام بجمعہ ایاھم علی قاریٔ واحد ویظھر ذالک من قولہ : لو جمعت ھؤلاء علی قاریٔ واحد لکان امثل۔ فلم یکن رضی اللّٰه تعالی عنہ لیرشد ھم فی کمیۃ القیام الا الی الافضل ایضا ولذالک کان أمرأبی بن کعب و تمیما الداری ان یقوما للناس باحدی عشرہ رکعۃ و کان القاریٔ یقرأ بالمئین و کانوا یعتمدون علی العصی من طول القیام و ما کانوا ینصرفون الا فی فروع الفجر و انما کان ھذا العدد فی القیام افضل لثبوتہ عن النبی