کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 320
دام امکن الجمع لا معنی للتساقط وکذا تقدیم الترجیح علی التطبیق ایضا واضح فان الاخذ بالراجح مما جبل علیہ الانسان فھو مودع فی فطرتہ الاتری انک اذا سمعت رجلا افتاک فی مسألۃ بجواب ثم تسمع رجلاً افضل منہ یجیب بغیر جوابہ تاخذ بما اجاب بہ الافضل بدون تامل ولا ترکن الی قول المفضول اصلا وھذا ھو الاخذ بالراجح من حیث لا ندریہ ۱ھ(المقدمۃ ، ص:۵۲))) ’’اور جان لو کہ جب دو حدیثوں کے درمیان تعارض سامنے آئے تو اس کا حکم ہمارے نزدیک یہ ہے کہ پہلے اسے نسخ پر محمول کیا جائے چنانچہ ایک کو ناسخ بنا دیا جائے اور دوسری کو منسوخ پھر نسخ سے اتر کر ترجیح کی طرف رخ کیا جائے اگر ایک حدیث کی دوسری پر ترجیح کی وجہ ظاہر نہ ہو تو تطبیق کی راہ اختیار کی جائے اگر ممکن ہو تو بہتر ورنہ دونوں کو ساقط سمجھا جائے ، تعارض کی صورت میں ہمارے نزدیک یہی ترتیب ہے جیسا کہ التحریر میں ہے اور شافعیہ کے نزدیک پہلے تطبیق سے ابتدا کی جائے گی پھر نسخ پھر ترجیح اور پھر تساقط۔ میں کہتا ہوں شافعیہ نے جو طریقہ اختیار کیا ہے بادی النظر میں اچھی رائے ہے لیکن گہری نظر سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری رائے اولیٰ ہے کیونکہ تطبیق اور تساقط کے درمیان ترتیب ظاہر ہے کیونکہ تساقط ہوتا ہی اسی وقت ہے جب تطبیق ناممکن ہو جب تک تطبیق ممکن ہو تساقط کا کوئی مطلب نہیں ۔ اسی طرح تطبیق پر ترجیح کا مقدم ہونا بھی واضح ہے کیونکہ راجح بات کو اخذ کرنا ایسی چیز ہے جس پر انسان پیدا کیا گیا ہے چنانچہ یہ اس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ جب آپ کو کوئی آدمی کسی مسئلہ میں کوئی فتویٰ دے پھر آپ کو کسی ایسے آدمی سے جو پہلے سے افضل ہو اس مسئلہ میں پہلے شخص کے فتویٰ کے علاوہ کوئی فتویٰ سُنیں تو آپ بلا تامل اس فتویٰ کو اخذ کریں گے جو افضل نے دیا ہے اور مفضول کے قول کی طرف مائل نہیں ہوں گے اور یہی چیز راجح کو اخذ کرنا ہے جو ہم نہ جانتے ہوئے بھی کرتے ہیں ۔ (مقدمہ ، ص:۵۲)‘‘ (( اقول: ان شئت ان تعرف ما علی کلام صاحب الفیض ھذا وغیرہ فارجع الی انتقادات شیخنا بارک اللّٰه تعالیٰ فی علمہ و عملہ ورزقہ و عمرہ علی الفیض المسماۃ بارشاد القاری و سوف تطبع ان شاء اللّٰه تعالیٰ و انما المقصود ھھنا بیان ان الترجیح مقدم علی التطبیق عند الحنفیۃ))