کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 319
کیونکہ محمد بن یوسف سے بیان کرنے والے تو رأس المتقنین ، کبیر المتثبتین اور اوثق الناس بعد التابعین حضرت الامام مالک، امام الجرح والتعدیل ثقہ متقن اور حافظ یحییٰ بن سعید القطان اور ثقہ عبدالعزیز بن محمد ہیں ، اُدھر حارث بن عبدالرحمن سے بیان کرنے والے اسلمی صاحب ہیں جن کاحال پہلے لکھا جا چکا ہے تو ان وجوہ ترجیح کی بناء پر محمد بن یوسف کی روایت راجح اور حارث بن عبدالرحمن کی روایت مرجوح ٹھہرے گی۔ باقی یزید بن خصیفہ اور حارث بن عبدالرحمن کے ایک دوسرے کا متابع ہونے سے بھی وہ دونوں محمد بن یوسف کے درجہ ثقاہت کو نہیں پہنچ سکتے جیسا کہ مراتب تعدیل و توثیق ، محمد بن یوسف کے مرتبہ ثقاہت ، ثقہ ، ثبت ، یزید بن خصیفہ کے درجہ ثقاہت ثقہ اور حارث بن عبدالرحمن کے مقام عدالت صدوق یھم پر تدبر کرنے سے واضح ہے ، چلو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یزید اور حارث دونوں مل کر درجہ ثقاہت میں محمد بن یوسف کے برابر ہیں لیکن ترجیح کی دو اور وجہوں کثرت صحبت اور رشتہ داری سے محمد بن یوسف تو بہرہ ور ہیں اور یزید و حارث دونوں ان دو وجوہ سے محروم ہیں یہ بھی تسلیم کہ کثرت صحبت میں بھی یہ دونوں محمد بن یوسف کے برابر ہیں مگر مروی عنہ سے رشتہ داری والی وجہ ترجیح سے تو یہ دونوں بہر حال محروم ہیں نیز یزید و حارث سے نیچے کے سب راوی محمد بن یوسف سے نیچے کے سب راویوں کے ہم پلہ نہیں ہیں کما تقدم تو اصول حدیث کے لحاظ سے محمد بن یوسف کی روایت راجح اور یزید و حارث کی روایت مرجوح ہے اور بقول حضرت المؤلف ’’ اصول حدیث کو پیش نظر رکھنا ہر ذی علم پر لازم ہے۔‘ ‘ پھر محمد بن یوسف کی روایت راجح ہونے کی اور وجوہ بھی ہیں جیسا کہ ترجیح کی پچاس سے زائد وجوہ پر غور و فکر کرنے سے ظاہر ہے۔ و ثالثاً:.....حنفیہ کے نزدیک ترجیح تطبیق سے مقدم ہے لہٰذا ترجیح کی کسی صورت مقبولہ کے ہوتے ہوئے ان کے ہاں تطبیق کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا چنانچہ صاحب فیض الباری تحریر فرماتے ہیں : (( واعلم ان الحدیثین اذا لا ح بینھما تعارض فحکمہ عندنا ان یحمل اولا علی النسخ فیجعل احدھما نا سخا والاخر منسوخا ثم یتنزل الی الترجیح فان لم یظھر وجہ ترجیح احدھما علی الاخر یصار الی التطبیق فان امکن فبھا والا فالی التساقط ھذا ھو الترتیب عند التعارض عندنا کما فی التحریر و عند الشافعیۃ یبدأ اولا بالتطبیق ثم بالنسخ ثم بالترجیح ثم بالتساقط قلت: وما اختارہ الشافعیۃ رأی حسن فی بادیٔ النظر و ما یظھر بعد التعمق ھو ان ما ذھبنا الیہ اولی لان الترتیب بین التطبیق والتساقط ظاھرفان التساقط انما ھو عند تعذ ر التطبیق وما