کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 316
مذکور میں گیارہ کا لفظ صحیح ثابت محفوظ ہے اور اکیس کا لفظ غیر محفوظ ہے اور زیادہ غالب یہ ہے وہ وہم ہے۔ ۱ھ (ج:۲، ص:۷۴) اور حافظ نے تہذیب التہذیب میں فرمایا: ’’ اور ابن مدینی نے کہا میں نے ابن مہدی سے سنا ہے کہ وھیب مالک ؒ کے برابر کسی کو قرار نہیں دیتے تھے اور یہ بھی کہا کہ ابن مہدی مالک پر کسی کو مقدم نہیں کرتے تھے ۔ اور یہ بھی فرمایا: ’’ اور نسائی نے کہا میرے نزدیک تابعین کے بعد مالک سے زیادہ کو ئی شخص نہ با شرف ہے نہ زیادہ جلیل القدر نہ زیادہ ثقہ اور نہ ان سے کوئی شخص حدیث میں زیادہ امین ہے….....الخ(جلد:۱۰، ص:۷،۸،۹)‘‘ حضرت المؤلف نے حافظ ابن عبدالبر کے اکیس رکعات والی روایت کو راجح اور امام مالک وغیرہ کی گیارہ رکعات والی روایت کو مرجوح قرار دینے کو تو شرح زرقانی سے نقل فرمایا مگر شارح زرقانی کی تنقید و تردید برقول ابن عبدالبر در ترجیح کو رسالہ میں ذکر کرنا تو درکنار انہوں نے اس کی طرف ادنیٰ اشارہ کرنے کو گوارا تک نہیں فرمایا حالانکہ جس مقام سے وہ حافظ ابن عبدالبر کی ترجیح کو نقل فرما رہے ہیں اسی مقام پر علامہ زرقانی کی تنقید و تردید بھی موجود ہے جیسا کہ شرح زرقانی کی مندرجہ بالا عبارت سے صاف ظاہر ہے۔ محمدبن یوسف کا شاگرد داؤد بن قیس اکیس رکعات کہنے میں متفرد ہے اور اپنے سے اوثق رواۃکی مخالفت بھی کر رہا ہے تواُصول حدیث کی رو سے ا س کی روایت مرجوح ہو گی اور ’’اصول حدیث کو پیش نظر رکھنا ہر ذی علم پر لازم ہے۔‘‘ اگر کہا جائے کہ حافظ عبدالرزاق کی کتاب مصنف سے پتہ چلتا ہے کہ داؤد بن قیس کا متابع بھی موجود ہے کیونکہ وہاں لفظ ہیں : (( داؤد بن قیس وغیرہ)) تو جوابا عرض ہے کہ یہ غیرہ مبہم اور مجہول ہے ۔ لا یدری من ھو اس لیے اس متابعت کا کوئی اعتبار نہیں ۔ دیکھئے حضرت المؤلف نے بھی اس غیرہ کو درخو ر اعتناء نہیں سمجھا ورنہ وہ فرماتے:’’ محمد بن یوسف کے کم از کم چھ شاگرد ہیں ۔‘‘ الخ تو ان کے بیان ’’ اور محمد بن یوسف کے پانچ شاگرد ہیں اور ان پانچوں کے .....الخ۔‘‘ سے واضح ہے کہ اس غیرہ کا ان کو بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ، پھر داؤد بن قیس کے بیان کہ محمد بن یوسف کے چار شاگردوں کے بیانات کے مخالف ہونے کا حضرت المؤلف کو بھی اعتراف اور اقرار ہے جیسا کہ ان کے دئیے ہوئے نقشہ سے صاف صاف ظاہر ہے۔ و ثانیا:.....پہلے تو محمد بن یوسف کے پانچ شاگردوں کے بیانات میں ترجیح پر بات ہو رہی تھی جو اس نتیجہ پر پہنچی کہ امام مالک ، یحییٰ بن سعید اور عبدالعزیز بن محمد کا بیان ’’ گیارہ رکعات ‘‘ راجح اور داؤد بن قیس کا بیان ’’اکیس رکعات ‘‘ مرجوح ہے رہی حضرت سائب بن یزید کے تین شاگردوں محمد بن یوسف ، یزید بن خصیفہ اور حارثہ بن