کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 310
الترجیح المعتبرۃ فالراجح محفوظ او معروف والمرجوح شاذ ا و منکر و ان لم یمکن الجمع ولا الترجیح فالحدیث مضطرب فالاختلاف الذی یمکن رفعہ بالجمع او الترجیح لیس باضطراب فی عرف اصول الحدیث)) ’’ترجمہ:.....ان عبارات سے حاصل یہ ہوا کہ ایک حدیث جب مختلف وجوہ پر روایت کی جائے تو اگر تکلف کے بغیر تطبیق ممکن ہو تو وہ مختلف الحدیث ہے یا ترجیح کی معتبر وجوہ میں سے کسی وجہ کے ساتھ ایک روایت کو ترجیح حاصل ہو جائے تو راجح کا نام محفوظ یا معروف اور مرجوح کا نام شاذ ہے یا منکر ۔ اور اگر نہ ہی تطبیق ممکن ہو اور نہ ترجیح تو وہ حدیث مضطرب ہے تو وہ اختلاف جسے تطبیق یا ترجیح کے ساتھ ختم کیا جا سکتا ہے اصول حدیث کی رو سے مضطرب نہیں ہے۔ پس کتب اصول حدیث کی مندرجہ بالا عبارات شہادت دے رہی ہیں کہ اگر مختلف بیانات میں ترجیح یا تطبیق کی کوئی معقول و مقبول صورت نکل آئے تو روایت کو اصطلاحاً مضطرب نہیں کہا جائے گا اور اس مقام پر ترجیح اور تطبیق کی صورت موجود ہے لہٰذا مصنف صاحب کا فرمان:’’ پس اصول حدیث کی رو سے یہ روایت مضطرب ہے ‘‘ درست نہیں ہاں جامع ترمذی کے بعض مقامات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ترجیح اور تطبیق کی موجودگی میں بھی روایت کو مضطرب کہا جا سکتا ہے تو پھر حضرت المؤلف کا بیان ’’یہ روایت مضطرب ہے …الخ‘‘ درست ہو گا۔ و رابعاً:.....اگر امام مالک رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کی گیارہ رکعات والی روایت کو مضطرب قرار دیا جائے تو پھر داود بن قیس کی اکیس رکعات والی روایت کو بھی مضطرب قرار دینا پڑے گا کیونکہ محمد بن یوسف کے باہم مختلف بیانات والے پانچ شاگردوں میں داؤد بن قیس بھی شامل ہیں ۔چنانچہ حضرت المؤلف کے پیش کردہ نقشہ سے صاف صاف ظاہر ہے تو جیسے صاحب رسالہ کے خیال میں بوجہ اضطراب امام مالک وغیرہ کی گیارہ رکعات والی روایت کو کسی مدعا کے ثبوت میں پیش کرنا درست نہیں ویسے ہی بوجہ اضطراب داؤد بن قیس کی اکیس رکعات والی روایت کو بھی کسی مدعا کے ثبوت میں پیش کرنا درست نہیں حالانکہ حضرت المؤلف نے اپنے مدعا کے ثبوت میں پیش فرمودہ دلائل میں سے سب سے پہلے داؤد بن قیس والی روایت کو پیش فرمایا ہے اگر کہا جائے کہ صاحب رسالہ نے تو داؤد بن قیس کی روایت کو بعد از ترجیح یا تطبیق دلیل بنایا ہے تو پھر امام مالک وغیرہ کی گیارہ رکعات والی روایت سے استدلال کرنے والے بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بھی آخر گیارہ رکعات والی روایت کو ترجیح یا تطبیق کے بعد ہی دلیل بنایا ہے رہی یہ بات کہ کونسی ترجیح یا تطبیق درست ہے تو اس پر کلام ہو گا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ