کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 309
اسباب میں سے کسی سبب کی وجہ سے تو فیصلہ راجح روایت کے حق میں ہو گا اور وہ حدیث مضطرب نہیں ہوگی ۔ نہ راجح روایت مضطرب ہو گی جیسا کہ ظاہر ہے اور نہ ہی مرجوح روایت کیونکہ وہ اس صورت میں شاذ یا منکر ہو گی جیسا کہ گزر چکا ۔ انتہٰی (ص:۱۶۹) اور شرح نخبہ میں ہے:’’ اور اگر مخالفت راوی کے بدل دینے کے ساتھ ہو اور دونوں روایتوں میں سے ایک کو دوسری پر ترجیح دینے والی کوئی چیزبھی موجود نہ ہو تو اس کا نام مضطرب ہے اور یہ اکثر سند میں ہوتی ہے اور کبھی کبھی متن میں بھی واقع ہوتی ہے لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ محدث حدیث پر اضطراب کا حکم سند کے بغیر صرف متن کے اختلاف کی وجہ سے لگائے ۔ انتہیٰ اور اس کے حاشیہ میں ہے : قولہ : ’’ولا مرجح‘‘ تو اگر ایک روایت راجح ہو جائے اس وجہ سے کہ اس کا راوی زیادہ حافظ ہو یا مروی عنہ کے ساتھ زیادہ رہا ہو بالخصوص جب وہ اس کا لڑکا یا رشتہ دار یا غلام یا اس کے شہر میں رہنے والا ہو۔‘‘ یا اس کے علاوہ ترجیح کی صورتوں میں سے کوئی قابل اعتماد صورت ہو مثلاً اس کا راوی حدیث حاصل کرنے کے وقت بالغ ہو یا اس نے خود شیخ کے لفظ سنے ہوں تواس قسم کی ترجیح حاصل ہوجانے کی صورت میں راجح روایت کے حق میں فیصلہ ہو گا اور اس وقت حدیث مضطرب نہیں ہو گی۔ اسی طرح اگر تطبیق ممکن ہو اس طرح کہ متکلم نے ایک ہی معنی کو دو یا زیادہ لفظوں کے ساتھ تعبیر کر دیا ہو یا دونوں میں سے ہر ایک لفظ کو کسی ایک حالت پر محمول کر دیا جائے جو دوسری حالت کے منافی نہ ہو ۔ شرح نخبہ ہی میں ہے :’’پس اگر ایک روایت کی مخالفت ایسی روایت کے ساتھ کی جائے جو ضبط کی زیادتی یا تعداد کی کثرت کی وجہ سے یا ترجیح کی وجوہ میں سے کسی وجہ سے راجح ہے تو راجح کو محفوظ کہا جائے گا اور اس کی مقابل کو جو مرجوح ہے ۔ شاذ کہا جائے گا۔ اصطلاح کے اعتبار سے شاذ کی یہی تعریف قابل اعتماد ہے اور اگر مخالفت ضعف کے ساتھ واقع ہو تو راجح کو معروف اور اس کی مقابل کو منکر کہا جائے گا انتہی ۔ بقدر ضرورت (ص:۴۲،۴۳)اور شرح نخبہ ہی میں ہے : اگر مخالفت ہم مثل روایت کے ساتھ ہو تو یا تو دونوں کے مفہوم میں بلا تکلف تطبیق ممکن ہو گی یا نہیں ، ممکن ہو تو اس قسم کا نام ’’مختلف الحدیث ‘‘ ہے ۔ انتہی (ص:۴۷) (( وحاصل ھذہ العبارات أن الحدیث اذا روی علی أوجہ مختلفۃ فان أمکن الجمع من غیر تعسف فھو مختلف الحدیث او ترجح أحدھا بطریق من طرق