کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 306
احدی عشرۃ کما رواہ مالک عن محمد بن یوسف ، واخرج محمد بن نصر المروزی فی قیام اللیل من طریق محمد بن اسحاق حدثنی محمد بن یوسف عن جدہ السائب بن یزید قال :کنا نصلی فی زمن عمر فی رمضان ثلاث عشرۃ رکعۃ۔ انتھی قلت : ھٰذا قریب مما رواہ مالک عن محمدبن یوسف ای مع الرکعتین بعد العشاء ۱ھ (التعلیق الحسن ، ص:۲۰۳) ’’ترجمہ:.....ثانیا .....علامہ زرقانی نے مؤطا کی شرح میں فرمایا: اس کا قول کہ مالک اس روایت میں اکیلے ہیں ، صحیح نہیں کیونکہ سعید بن منصور نے ایک دوسری سند کے ساتھ محمد بن یوسف سے بیان کیا اور فرمایا: ’’ گیارہ رکعتیں ‘‘ جس طرح مالک نے فرمایا: ۱ھ(ج:۱، ص:۲۳۹)اور حافظ نے فتح میں فرمایا اس روایت میں ان رکعات کی تعداد مذکور نہیں جو ابی بن کعب پڑھاتے تھے ، اور اس کے متعلق اختلاف ہے ۔ چنانچہ مؤطا میں محمد بن یوسف نے سائب بن یزید سے بیان کیا ہے کہ وہ گیارہ رکعتیں تھیں اور سعید بن منصور نے اسے ایک اور سند کے ساتھ بیان کیا ہے …الخ۔ (ج:۴، ص:۲۵۳)اور صاحب آثار السنن نے فرمایا: ابن عبدالبر نے جو مالک کا وہم بتایا ہے بہت ہی غلط ہے کیونکہ مالک کی متابعت سنن سعید بن منصور میں عبدالعزیز بن محمد نے کی ہے اور مصنف ابن ابی شیبہ میں یحییٰ بن سعید بن قطان نے کی ہے ، دونوں نے محمد بن یوسف سے بیان کیا ہے اور گیارہ رکعتیں ذکر کی ہیں جس طرح مالک نے محمد بن یوسف سے بیان کیا اور محمد بن نصر مروزی نے قیام اللیل میں محمد بن اسحاق کے طریق سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں مجھے محمد بن یوسف نے اپنے دادا سائب بن یزید سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں رمضان میں تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے انتہی میں کہتا ہوں یہ اس روایت کے قریب ہے جو مالک نے محمد بن یوسف سے بیان کی یعنی عشاء کے بعد کی دو رکعتیں ملا کر ۔ (التعلیق الحسن، ص:۲۰۳)‘‘ تو منقولہ عبارات دلالت کر رہی ہیں کہ یحییٰ بن سعید اور عبدالعزیز بن محمد نے امام مالک کی متابعت کی ہے اور متابعت موافقت کا نام ہے نہ کہ مخالفت کا۔ چنانچہ شرح نخبہ میں لکھا ہے: (( وما تقدم ذکرہ من الفرد النسبی ان وجد بعد ظن کونہ فردا قد وافقہ غیرہ فھو المتابع))(ص:۴۴)