کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 304
’’پس اُصولِ حدیث کی رو سے یہ روایت مضطرب ہے اوراس حالت میں جب تک کہ کسی ایک بیان کو اُصول کے مطابق ترجیح نہ دی جائے یا تمام بیانات میں تطبیق نہ دی جائے اس وقت تک اس روایت کو کسی مدعا کے ثبوت میں پیش کرنا درست نہیں ۔‘‘ (ص:۲۲،۲۳) اولاً:.....صرف اور صرف محمد بن یوسف کے اس اثر کا ناقل ہونا کوئی وجہ ضعف نہیں ۔ دیکھئے بخاری شریف کی پہلی حدیث: ((اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ)) کے ناقل صرف اور صرف حضرت علقمہ ہیں حالانکہ حدیث انما الاعمال بالنیات باتفاق جمیع محدثین صحیح ہے ، پھر محمد بن یوسف سے متعلق صاحب رسالہ ہی لکھتے ہیں : ’’محمد بن یوسف ثقہ ثبت ، تقریب ، ص:۲۳۸۔‘‘ (ص:۹) لہٰذا صاحب رسالہ کا قول ’’اس اثر کے ناقل صرف اور صرف محمد بن یوسف ہیں ۔‘‘ حقیقت حال کا بیان ہے تضعیف اثر نہیں ۔ وثانیاً :.....یحییٰ بن سعید قطان کا بیان ’’حضرت عمر نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما پر لوگوں کو جمع کیا ، پس وہ دونوں گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔‘‘ امام مالک کے بیان ’’ حضرت عمر نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائیں ۔‘‘ کے خلاف و منافی نہیں بلکہ یحییٰ بن سعید کا بیان بتا رہا ہے کہ حضرت ابی بن کعب اور تمیم داری کا عمل گیارہ رکعات تھا اور امام مالک کا بیان واضح کر رہا ہے کہ حضرت عمر نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا تو ان میں موافقت ہے مخالفت اور منافات نہیں ، یہ درست کہ یحییٰ بن سعید کے بیان میں حضرت عمر کے حکم کا ذکر نہیں مگر ان کے بیان میں حضرت عمر کے حکم کی نفی بھی تو نہیں ہے۔ نیز عبدالعزیز بن محمد کا بیان’’ہم حضرت عمر کے زمانہ میں بماہِ رمضان گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔‘‘ امام مالک اور یحییٰ ابن سعید کے مذکورہ بالا بیانات کے خلاف و منافی نہیں کیونکہ اس میں نہ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے گیارہ رکعات کا حکم دینے کی نفی ہے اور نہ ہی حضرت ابی بن کعب اور تمیم داری کے گیارہ رکعات پڑھانے کی نفی ہے۔ باقی اس میں حکم اور ابی بن کعب و تمیم داری کا ذکر نہ ہونے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دینے اور حضرت ابی بن کعب و تمیم داری کے گیارہ رکعات پڑھانے کی نفی نہیں ہوتی ، ہاں اس میں یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ ہم لوگ حضرت عمر کے زمانہ میں بماہِ رمضان گیارہ رکعات پڑھتے تھے۔ ادھر امام مالک کے بیان کے مطابق حضرت عمر کا حکم بھی گیارہ رکعات ہی تھا اور یحییٰ بن سعید کے بیان کے موافق حضرت ابی بن کعب اور تمیم داری کا عمل بھی گیارہ رکعات ہی تھا۔