کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 303
مؤطا امام مالک کی گیارہ رکعات والی روایت کو مضطرب کہا ہے ۔ استادِ محترم نے اسی بات کی تحقیق کی جو کہ قارئین کے افادہ کے لیے درج کی جا رہی ہے: گیارہ رکعات والی روایت پر کلام کی تحقیق حضرت المؤلف فرماتے ہیں : ’’اب رہی وہ روایت جو حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائیں (مؤطا مام مالک ؍باب قیام رمضان) سو یاد رہے کہ اس اثر کے ناقل صرف اور صرف محمد بن یوسف ہیں اور محمد بن یوسف کے پانچ شاگرد ہیں اور ان پانچوں کے بیان باہم مختلف ہیں جیسا کہ درج ذیل نقشہ سے صاف ظاہر ہے: سائب بن یزید صحابی رضی اللہ عنہ ( محمد بن یوسف ۱۔(امام مالک) ۲۔(یحییٰ بن سعید) ۳۔(عبدالعزیز بن محمد) ۴۔(ابن اسحاق) ۵۔(داؤد بن قیس وغیرہ)  حضرت عمر نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعت پڑھائیں ۔ بحوالہ مؤطا امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ حضرت عمر نے ابی ابن کعب اور تمیم پر لوگوں کو جمع کیا ، پس وہ دونوں گیارہ رکعت پڑھتے تھے (اس میں حضرت عمر کے حکم کا ذکر نہیں ) بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ ہم حضرت عمر کے زمانہ میں بماہ رمضان گیارہ رکعت پڑھتے تھے( اس میں نہ حکم کا ذکر ہے نہ ابی بن کعب و تمیم داری کا) بحوالہ سنن سعید بن منصور ہم حضرت عمر کے زمانہ میں بماہ رمضان تیرہ رکعت پڑھتے تھے ( اس میں بھی حکم اور ابی بن کعب و تمیم کا ذکر نہیں اور گیارہ کی بجائے تیرہ کا ذکر ہے) بحوالہ قیام اللیل حضرت عمر نے رمضان میں لوگوں کو ابی بن کعب اور تمیم داری کی اقتدا میں اکیس رکعت پر جمع کیا۔ (اس میں گیارہ کی بجائے اکیس کا ذکر ہے) بحوالہ مصنف عبدالرزاق