کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 301
جب نماز ختم ہو چکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اور فرمایا:’’ جو چیزیں اب تک مجھے نہ دکھائی گئی تھیں ان کو میں نے اپنی اس جگہ سے دیکھ لیا ہے حتیٰ کہ جنت اور دوزخ کو بھی اور میری طرف یہ وحی بھیجی گئی کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہو گی جیسے مسیح دجال یا اس کے قریب قریب فتنہ سے آزمائے جاؤ گے اور پوچھاجائے گا کہ تجھے اس شخص یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا واقفیت ہے؟ایمان دار یا یقین رکھنے والا کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں جو ہمارے پا س کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے تھے ۔ ہم نے ان کا کہا مانا اور ان کی پیروی کی یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تین بار ایسا ہی کہے گا ۔ چنانچہ اس سے کہا جائے گا کہ تو مزے سے سو جا بے شک ہم نے جان لیا کہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہے اور منافق یا شک کرنے والا کہے گا میں کچھ نہیں جانتا ہاں لوگوں کو جو کہتے سنا میں بھی وہی کہنے لگا۔ [1] ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رمضان المبارک کے)روزے رکھے۔ (شروع میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ مہینے میں سے کچھ بھی قیام نہ کیا ، یہاں تک کہ ۲۳ ویں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام رمضان کیا ،پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۴ ویں رات چھوڑ کر ۲۵ ویں رات کو ، پھر ۲۶ ویں رات کو چھوڑ کر ۲۷ ویں شب کو اہل خانہ اور اپنی عورتوں کو اور سب لوگوں کو جمع کر کے قیام کیا اور فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ قیام (رمضان) کرتا ہے اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھا جاتا ہے۔ [2] ۹؍۱۰؍۱۴۲۲ھ س: وتر آخری نماز ہونی چاہیے یا وتروں کے بعد بھی نفل پڑھ سکتے ہیں ؟ سنا ہے کہ وتروں کے بعد د ونفل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہیں ؟تراویح اور وتر کے بعد نفلوں کا کیا حکم ہے؟ (ظفر اقبال) ج: افضل ہے وتر آخر میں پڑھے جائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( اِجْعَلُوْا آخِرَ صَلَاتِکُمْ بِاللَّیْلِ وِتْراً)) [3] [’’رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔‘‘]صحیح مسلم [4]میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتروں کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ نہیں ہے ۔ سنن دارمی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( إِنَّ ھٰذَا السَّھْرَ جُھْدٌ وَ ثِقْلٌ فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُکُمْ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ ، فَإِنْ قَامَ مِنَ اللَّیْلِ ، وَإِلاَّ کَانَتَا لَہُ)) [5] [’’ رات کی بیداری مشکل اور بھاری ہے جس وقت تم میں سے کوئی ایک وتر پڑھ لے تو دو رکعتیں پڑھے ، اگر رات کو اُٹھ کھڑا ہوا تو بہتر ہے ورنہ یہ دونوں رکعتیں اس کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘] ہاں نفل [1] صحیح بخاری؍کتاب الکسوف؍ باب صلاۃ النساء مع الرجال فی الکسوف [2] ابو داؤد؍ابواب شہر رمضان ؍باب فی قیام شہر رمضان ۔ ترمذی؍الصوم؍باب ما جاء فی قیام شھر رمضان [3] مسلم؍صلاۃ اللیل مثنی مثنی والوتر رکعۃ من آخر اللیل [4] مسلم؍صلاۃ المسافرین؍باب صلاۃ اللیل و عدد رکعات النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم [5] مشکوٰۃ؍باب الوتر؍الفصل الثالث