کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 297
سورۂ نساء شروع کر لی ، پھر اسے ختم کر کے سورہ آل عمران کو پڑھنا شروع کر دیا اس کو بھی ختم کر ڈالا ۔ آپؐ نہایت آہستگی سے پڑھتے جاتے تھے جب ایسی آیت کی تلاوت کرتے جس میں سبحان اللہ کہنے کا حکم ہوتا تو سبحان اللہ کہتے اگر کچھ مانگنے کا ذکر ہوتا تو سوال کرتے ،اگر پناہ کا ذکر ہوتا تو اعوذ باللہ پڑھتے ، آل عمران ختم کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا۔ [1] س: رمضان میں حافظ صاحب تراویح پڑھاتے ہیں تو خطیب صاحب تراویح با جماعت ادا نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم پچھلی رات قیام کرتے ہیں ۔ تراویح با جماعت پڑھنا افضل ہے یا علیحدہ علیحدہ؟ (محمد سلیم بٹ) ج: نمازِ تراویح ، تہجد ، صلاۃ اللیل ، قیام اللیل ، قیام رمضان ، قیام لیلۃ القدر، صلاۃ وتر اور دیگر نوافل لیل میں تین فضیلتیں ہیں : پہلی فضیلت جگہ کی فضیلت ہے کہ ان کو گھر میں ادا کرنا مسجد میں ادا کرنے کی نسبت افضل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((إِنَّ أَ فْضَلَ صَلَاۃُ الْمَرْئِ فِیْ بَیْتِہٖ إِلاَّ الْمَکْتُوبَۃَ)) [2] [’’ تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہوتی ہے جو اس کے گھر میں ہو مگر فرض نماز( مسجد میں پڑھنا ضروری ہے۔) ‘‘]دوسری فضیلت وقت کی فضیلت ہے کہ ان کو پچھلی رات ادا کرنا پہلی رات ادا کرنے کی بنسبت افضل ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (( یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَائِ الدُّنْیَا حِیْنَ یَبقی ثُلُثُ اللَّیْلَ الآخِرُ)) [3] [’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ ہمارا پروردگار بلند برکت والا ہر رات کو اس وقت آسمان دنیا پر اُترتا ہے جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے وہ کہتا ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، کوئی مجھ سے مانگنے والا ہے کہ میں اسے دوں ، کوئی مجھ سے بخشش طلب کرنے والا ہے کہ میں اس کو بخش دوں ۔‘‘] ٹھیک ہے عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو تو ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہ پر جمع فرمایا مگر خود پچھلی رات قیام کرتے اور فرماتے: (( وَالَّتِیْ یَنَامُوْنَ عَنْھَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِیْ یَقُوْمُوْنَ)) [4] [عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا سب لوگ متفرق اور منتشر تھے ، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہو گا۔ چنانچہ آپ نے یہی ارادہ کر کے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو ان کا [1] مسلم؍کتاب صلاۃ المسافرین؍باب استحباب تطویل القراء ۃ فی صلاۃ اللیل [2] بخاری؍الاذان؍باب صلاۃ اللیل۔ مسلم؍صلاۃ المسافرین؍باب استحباب صلاۃ النافلۃفی بیتہ و جوازھا فی المسجد [3] بخاری؍کتاب التہجد؍ باب الدعاء والصلاۃ من آخر اللیل [4] بخاری؍صلاۃ التراویح؍باب فضل من قام رمضان ۔ مسلم؍صلاۃ المسافرین ؍باب الترغیب فی قیام رمضان و ھو التراویح