کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 296
باقی آپ کا فرمان’’وتروں کے بعد کوئی نماز نہیں ‘‘ کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے البتہ صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِجْعَلُوْا آخِرَ صَلَاتِکُمْ بِاللَّیْلِ وِتْرًا)) [1] [’’ رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔‘‘]تو وتر پہلے پڑھنے والی صورت بھی اس حدیث کے منافی نہیں کیونکہ وتر طاق رکعات کو کہا جاتا ہے تو تین وتر مثلاً پہلے پڑھے اور بارہ رکعات بعد میں پڑھے تو کل پندرہ رکعات بنتی ہیں اور پندرہ رکعات بھی وتر ہی ہیں ، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایک یا تین رکعت آخر میں پڑھے تو افضل ہے۔ نمبر۳:.....اگر قیام اللیل کسی کا معمول ہے تو نیند یا بیماری کی وجہ سے قیام اللیل نہیں کر سکا تو وہ سورج طلوع ہونے کے بعد کے وقت بارہ رکعات پڑھ لے ۔صحیح مسلم میں ہے: (( إِذَا فَاتَتْہُ الصَّلوٰۃُ مِنَ اللَّیْلِ مِنْ وَجَعٍ اَوْ غَیْرِہٖ صَلّٰی مِنَ النَّھَارِ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً)) [2] اور اگر صرف تین وتر کی بات ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (( مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِہٖ أَوْ نَسِیَہٗ فَلْیُصَلِّ إِذَا ذَکَرَہٗ)) (ابو داؤد) [’’جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا بھول جائے تو اسے جب یاد آ ئے وہ وتر پڑھ لے ۔‘‘][3] پر عمل کرے۔ واللہ اعلم ۔ س: آٹھ رکعات تراویح مسنون ہے۔۔ کیا اس سے زائد رکعات( بطور عام نوافل) بعد از مسنون تراویح پڑھنا درست ہے یا نہیں ؟( محمد صدیق ، ضلع ایبٹ آباد) ج: وقت زیادہ لگانا چاہتا ہے تو قیام و تلاوت کو لمبا کرلے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی ہے اور آپ کا فرمان بھی ہے: (( طُوْلُ الْقُنُوْتِ)) [4] [جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کونسی نماز بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’لمبے قیام والی۔‘‘] خطبہ مسنونہ میں ہے : (( وَخَیْرَ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ صلی ا للّٰه علیہ وسلم)) [5] [’’اور سب سے بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔‘‘] حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نفلی نماز میں شریک ہوا ۔ آپ نے سورۂ بقرہ شروع کی ۔ میں نے سوچا آپ سو آیات پڑھ کر رکوع میں جائیں گے ، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے چلے گئے میں نے خیال کیا کہ سورۃ بقرہ کو دو رکعتوں میں تقسیم کریں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے رہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ بقرہ ختم کر کے [1] مسلم؍باب صلاۃ اللیل مثنیٰ مثنیٰ والوتر رکعۃ من آخر اللیل [2] صحیح مسلم؍کتاب صلوٰۃ المسافرین؍باب صلاۃ اللیل و عدد رکعات النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم [3] أبو داؤد؍ أبواب الوتر؍ باب فی الدعاء بعد الوتر [4] مسلم؍کتاب صلوٰۃ المسافرین؍باب صلاۃ اللیل و عدد رکعات النبی صلی ا للّٰه علیہ وسلم فی اللیل ۔ ترمذی؍ابواب الصلاۃ؍باب ما جاء فی طول القیام فی الصلاۃ [5] مسلم؍کتاب الجمعۃ؍باب رفع الصوت فی الخطبۃ و ما یقول فیھا