کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 290
2۔ تین رکعات اکٹھی پڑھے ، درمیان میں تشہد کے لیے نہ بیٹھے۔ پہلے طریقے کی دلیل صحیح مسلم کی حدیث ہے۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فراغت کے بعد فجر تک کے وقت میں گیارہ رکعات پڑھتے ، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے۔ [1] دوسرے طریقے کی دلیل مستدرک حاکم کی حدیث ہے ۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین وتر پڑھتے ، درمیان میں نہیں بیٹھتے تھے۔ قنوت وتر رکوع سے پہلے درست ہے۔ [2] اور رکوع کے بعد بھی درست ہے۔ جیسا کہ مستدرک حاکم میں ہے۔[3] ۱۲؍۱۰؍۱۴۲۱ھ س: آیا قنوتِ نازلہ رکوع سے قبل یا بعد میں دونوں طرح کی جا سکتی ہے؟ یا صرف رکوع کے بعد کی جائے گی؟ سنا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ رکوع سے قبل کرتے تھے تاکہ رکعت لمبی ہو جائے اور بعد میں جماعت میں شریک ہونے والے جماعت میں مل جائیں اور رکعت پا لیں ۔ کیا یہ عمل عثمان رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے؟ (نیل الاوطار) (حافظ آفتاب) ج: قنوت نازلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر رکوع کے بعد کیا کرتے تھے جیسا کہ صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے پہلے بھی قنوت فرمایا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو قنوت و تر پر محمول کرنے کی کوئی قوی دلیل مجھے معلوم نہیں ۔ نیل الأوطار کی جس عبارت کی طرف آپ نے اشارہ فرمایا وہ اس طرح ہے: (( وَقَدْرَوٰی مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُوْلَ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم کَانَ یَقْنُتُ بَعْدَ الرَّکْعَۃِ ، وَأَبُوْ بَکْرٍ، وَعُمَرُ ، حَتّٰی کَانَ عُثْمَانُ فَقَنَتَ قَبْلَ الرَّکْعَۃِ لِیُدْرِکَ النَّاسَ۔ قَالَ الْعِرَاقِیْ: ’’إِسْنَادُہٗ جَیِّدٌ‘‘)) [’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد قنوت کیا کرتے تھے اور بعد میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما لیکن عثمان رضی اللہ عنہ نے رکوع سے پہلے قنوت کی تاکہ لوگوں کو پالیں ۔‘‘] [4] ۱۹؍۴؍۱۴۲۱ھ [1] مسلم؍صلاۃ المسافرین؍باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم۔ [2] نسائی؍ابن ماجہ؍اقامۃ الصلاۃ؍باب ما جاء فی القنوت قبل الرکوع و بعد ہ ۔ اسے ابن ترکمانی اور ابن السکن نے صحیح کہا ہے۔ [3] ارواء الغلیل ، ص:۱۵۹، ح:۴۲۴۔ الجزء الثانی [4] نیل الأوطار؍ابواب الصلاۃ التطوع؍باب وقت صلاۃ الوتر والقرأۃ فیھا والقنوت