کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 289
فرغت من قراء تی فی الوتر۔ ظاھر قبل الرکوع))تو ان کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ محدث وقت شیخ البانی .....i.....نے ہی اس کے بعد لکھا ہے: (( لکن رواہ الحاکم (۳؍۱۷۲) وعنہ البیہقی (۳؍۳۸ ؍ ۳۹) من طریقین آخرین عن الفضل بن محمد ابن المسیب الشعرانی بہ بلفظ: إذا رفعت رأسی ولم یبق إلا السجود)) إلی آخر ما نقلنا عنہ قبل۔ ۱۹ ؍ ۴ ؍ ۱۴۲۱ھ س: وتر میں قنوت قبل از رکوع بہتر ہے یا بعد از رکوع ؟ ہمارے قاری صاحب نے بتایا کہ قبل از رکوع افضل ہے۔ ایک عالم کہتا ہے کہ بعد از رکوع کرنا چاہیے اور حدیث مستدرک پیش کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کو سکھلایا تھا کہ بعداز رکوع قنوت کرنا ۔ کیا یہ مستدرک کی حدیث صحیح ہے؟ (محمد امجد ،میر پور) ج: قنوت و تر بعد از رکوع بہتر ہے ،کیونکہ اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا جیسا کہ مستدرک کی صحیح حدیث سے ثابت ہے۔[1] ۱۱؍۱۱؍۱۴۲۳ھ س: قنوت وتر کی جو دعا ہے وہ رکوع سے قبل ہے یا بعد میں ؟میں نے اس کے بارے میں کافی تحقیق کی ہے ، علماء کرام سے بھی پوچھا ہے ، بعض کہتے ہیں رکوع سے قبل پڑھنی چاہیے ، اور بعض کہتے ہیں رکوع کے بعد پڑھنی چاہیے، اور بعض کہتے ہیں رکوع سے قبل اور بعد دونوں طرح جائز ہے۔ بعض علماء کرام کا مؤقف بہت زیادہ سخت ہے کہ رکوع کے بعد میں آنے والی تمام احادیث اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہیں جبکہ ایک حدیث آتی ہے۔ جس کے الفاظ ہیں : (( اذا رفعت رأسی ولم یبق إلا السجود)) (مستدرک حاکم، جلد:۳،ص:۱۲۲۔سنن الکبریٰ للبیہقی ص:۳۸؍۳۹، قال الالبانی والاسناد حسن رجالہ ثقات)وہ بھی بتائیں تاکہ ہم صحیح سنت کے مطابق ا س پر عمل کر سکیں ؟ (محمد اسد اللہ) ج: دعاء قنوت وتر قبل ازرکوع و بعد از رکوع دونوں طرح درست ہے کیونکہ قبل از رکوع والی حدیث بھی موجود ہے اور بعد از رکوع والی حدیث بھی موجود ہے جیسا کہ دونوں حدیثیں آپ کے علم میں ہیں ۔ واللہ اعلم ۲؍۱؍۱۴۲۱ھ س: وتر ادا کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ دعا رکوع سے پہلے یا بعد میں ہونی چاہیے؟ (محمد شکیل ، فورٹ عباس) ج: تین وتر ادا کرنے کے دو طریقے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں : 1۔ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے ، اور ایک رکعت الگ پڑھے۔ [1] إرواء الغلیل للألبانی ؍الجزء الثانی:۱۶۸،۱۶۹